ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 221 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 221

لوٹ لیا تووہ ایسی تجارت سے کیا فائدہ اٹھاتا۔یا مثلاً ایک بچہ کو تولد ہوتے ہی عمدہ سے عمدہ اور لذیذ سے لذیذکھانا تم لا کر کھلا دو تو یہ تمہاری غلطی ہو گی کیونکہ اس وقت اس کو ماں کے دودھ کی ضرورت ہے نہ کہ تمہارے لذیذ کھانوں کی۔پس قبل ازضرورت مدلل کتاب کا آنا غیر ضروری تھا۔پس جس طرح بچہ سکھایا اور تربیت دیا جاتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے خلقت کوسکھایا ہے۔اسی طرح خدا کی وحی بدون محرک کے نہیں ہوئی۔میں نے خود تجربہ کیا ہے کہ جب تک قلق اضطراب اور گھبراہٹ طلب کی نہ ہو اس وقت تک خدا تعالیٰ کے نکات معرفت حاصل نہیں ہوتے۔پس یہ نکتہ معرفت کا ہے خدا کے حضور میں تو سب کچھ موجود ہوتاہے۔پر خدا کے نزدیک (الحجر: ۲۲) کا اندازہ ہوتا ہے۔اسی لئے میرا خیال ہے کہ لیکچروں اور وعظوںکے واسطے بھی قبل از وقت تیاری نہیں کرنی چاہیے۔یا ایک کتاب کا مسودہ تحریر کر کے بہت مدت رکھ دینا اور بہت دیرکے بعد اس کو چھاپنا غلطی ہے کیونکہ اگر وقت پر خدا کی توجہ ہو تو وہ خود حسب ضرورت مضامین سمجھا دیتا ہے۔پس اس زمانہ میں مخلوقات انسانی دنیا میں تھوڑی تھی دوسرے بلاد میں ان کا کوئی تعلق نہ تھا۔نہ بیماریاں اس کثرت سے تھیں اور نہ ایسی تحریکیں تھیں۔تو پھر کیوں اللہ تعالیٰ کسی چیزکوبلا ضرورت اور بدون طلب نازل کر دیتا۔مثلاً لوہا ،سکہ، کوئلہ وغیرہ اشیاء پر نظر کرو۔ان کو ظاہر نہیں کیا جب تک کہ ان کی ضرورت دنیا کو محسوس نہیں ہوئی۔پس اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حرمت ہو گی اور دنیا کی قومیں آپس میں مل جاویں گی۔پس ایسی کتاب نازل کر نی چاہیے جو کل دنیا کے واسطے جامع ہو۔فقط ( الحکم جلد ۹نمبر۵ مورخہ ۱۰؍ فروری۱۹۰۵ء صفحہ ۳)