ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 219 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 219

اصولوں پر قائم رہتے مثلاً ایک شخص پادری کے وعظ میں بول اٹھا کہ کیا تم کوئی شیخ سعدی سے بڑے آدمی ہو،دیکھو تو اس نے صاف کہا ہے کہ تورات و انجیل منسوخ کرد۔پس تورات اور انجیل منسوخ ہو چکی ہے۔پس بعض وہ ہیں جو دوسروں کے اعتراضات کو اور سوال و جواب کو سنتے ہی نہیں اورنہ انہیں اس بات کی ضرورت ہوتی ہے۔چوتھی۴ قسم کے وہ لوگ ہیں جو سوال کو سنتے اور اس پر غور کرتے اور بعض وقت ان اعتراضات پر مائل ہو جاتے اور کہہ اٹھتے کہ یہ بات قابل قدر ہے۔ان لوگوں پر جب سوال کی زد آن کر پڑتی ہے تو گھبراجاتے اور کبھی تو خود جواب سوچتے اور کبھی کسی دوسرے سے جاکر دریافت کرتے ہیں۔پس چوتھی قسم کے لوگوں کے واسطے ہی علم کلام کی کتابیں ہوتی ہیں مگر یہ بھی چوتھے قسم میں سے وہ لوگ ہیں جو خود غور و خوض نہیں کر سکتے۔پھر دوسروں سے جاکر دریافت کرتے ہیں۔پس مرزا صاحب نے بھی ایسے لوگوں کوہی مخاطب فرمایا ہے۔باقی اقسام کے لوگ تو بالکل محتاج نہیں ہوتے۔۲۔قرآن کریم کی راست بازی کی ایک باریک اصل جب کوئی شخص یہ دعویٰ کرے کہ میں کامل ہوں یا میری کتاب کامل ہے تو چونکہ کامل چیز دوسرے کی محتاج نہیں ہوتی اس لئے ضرور ہے کہ وہ اپنے کمال کی آپ ہی دلیل بھی پیش کرے۔اور اگر اس کے کمال کی دلیل کوئی اور شخص دیتاہے خود مدعی دلیل نہیںدے سکتا تو معلوم ہوا کہ وہ خو د کامل نہیں۔پس جو کلام خود اپنے کمال کا دعویٰ کرے اور اپنی خوبی کے دلائل بھی خود پیش کرے اور جس عقیدہ باطلہ کو وہ دفع کرنا چاہتی ہے اس عقیدے اور اس کی برائی کوبھی بیان کر دے تو وہ کلام کامل کلام کہلائے گی۔مثلاً قرآن نے دعویٰ کیا ہے کہ شرک بری چیز ہے۔اگرچہ اس کی نسبت قرآن میں یہ ذکر کثرت سے آیا ہے مگر میںایک ذکر بطورمثال بیان کر تا ہوں۔(الاعراف: ۱۴۱) احمقو! تم کہتے ہو کہ کوئی بت بنا دو خدا کے سوائے۔خدا نے تو بندے کو بڑی بزرگی اور طاقت دی