ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 216 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 216

جوابات سوال نمبر ا۔(الف) آباو اجداد کا اثر۔(ب)۔ملک اور قوم کا اثر۔یہ ہر دو امور انسان کے اختیار سے باہر ہیں۔پھر اس کو کیوں نیکی پر انعام اور بدی پر سزا ہو۔جواب۔(الف)آباو اجداد کا اثر اگر ایسا ہے کہ اس اثرکے بالمقابل کو ئی دبا نے والی طاقت اس انسان کو نہیں دی گئی تو وہ انسان پاگل ہے اور شرعًا اس پر کوئی سزا نہیں لگ سکتی کیونکہ شریعت طاقت اور وسعت سے باہر کی باتوں پر حکومت نہیں کر تی۔(ب)۔اسی طرح ملک اور قوم کے آثار بھی اگر اس درجہ تک کسی انسان میں اثر کر گئے ہیں کہ اس تاثیر کے بالمقابل دبانے والی طاقت کام نہیں کر سکتی تو وہ انسان بھی مجنون ہے۔اور مجنون کسی انعام یا سزا کا مستحق نہیں ہو تا اورنہ وہ شریعت کا پابند ہے کیونکہ یہ معاملہ اس کی طاقت اور وسعت سے باہر ہے اور شریعت طاقتوں پر حکمرانی کرتی ہے۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ چوروں کا ایک جتھہ مل کر کسی شخص کے گھر میں نقب لگاتا اور اس کا مال و اسباب نکال کر ایک ایسے شخص کے سپرد کرتاہے جو اسی جتھہ کا ہے اور اگر وہ شخص جس کے سپرد مال کیا گیا ہے اس میں سے ذرا بھی نقصان کرے تو فورًا اس کو چور لوگ اپنے جتھہ میں سے نکال دیتے ہیں اور کہتے ہیں یہ کمینہ اور چور ہے۔اسی طرح ٹھگ بھی چند آدمی مل کر ٹھگی کرتے اور مال ان میں سے ایک ہی آدمی کے قبضہ میں آتا ہے لاکن اگر وہ شخص جس کے قبضہ میں مال آیا ہے کچھ مال اس میں سے دھوکہ سے لے لے تو اس کو اپنی شراکت سے الگ کر دیتے ہیں۔اسی طرح کنجر لوگ اپنی بہو سے زنا نہیں کرواتے اس لئے کہ غیر کی لڑکی کو خراب نہیں کر نا چاہیے پر جو شخص ان کے گھرمیں ان کی اپنی لڑکی سے بدکاری کرنے کے واسطے آیا ہے وہ عورت اس کی کیا لگتی ہے۔اسی طرح ہر ایک بدکا ر کے اندر ایک طاقت موجود ہے جو اس کو بدکاری سے ملزم کر رہی ہے اور بدی سے روکتی ہے۔پس ہر بدکار اپنے اندر بدی کے دبانے کی طاقت رکھتاہے۔ہمارے مورث اعلیٰ لوگ بھی قویٰ کے مرکب تھے جو ایک دوسرے کے مقابل حد بندی قائم کر سکیں۔پس جب انسان اس بدی کے دبانے والی طاقت سے کام نہیں لیتا جو اس کو ملی ہے یا اس میں ہے تو وہ سزا کا مستحق ہوتا ہے اوراگر بدی کے مقابل دبانے والی طاقت سے کام لیتا ہے تو انعام کا مستحق ہوتا ہے۔