ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 214
پھر ایک جگہ یہ بھی فرمایا ہے۔(البقرۃ : ۲۷۶) یعنی جب کوئی شخص قسم قسم کی بد اعمالیوں اور بد ذاتیوں اور خد اکی نافرمانیوں میں مصروف ہو اور اس وقت اس کو خدا کا حکم پہنچے اور وہ خدا کی طرف سے وعظ و نصیحت کو سنے اور اس جگہ توبہ کرے اور سچی توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے گذشتہ قصوروں اور گذشتہ بد ذاتیوں کو معاف کر دے گا اور جو کچھ اس نے گذشتہ زمانہ میں کیا وہ سب اس کو معاف ہوگا۔بجواب سوال نمبر۲ یہ عرض ہے کہ انسان کا دل خد اتعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے اور یہ الفاظ صحیح معنی بھی رکھتے ہیں۔پھرمخبر صادق نے فرمایا اُذْکُرُوْا مَوْتَاکُمْ بِالْخَیْرِ (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ کتاب النکاح باب عشرۃ النساء ومالکل واحدۃ من الحقوق) اوران لفظوں کے معنے وحدت نظری کے بھی ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ ان لوگوں کے سابقہ حالات اچھے تھے یا کیا۔پس بعض لوگ ان اشعار کے معنی فنا نظری کی طرف لے جاتے ہیں اوروہ اس کی لذت اور ذوق و شوق میں معذور اور بے اختیار ہوتے ہیں۔ہاں بعض شریر النفس شوخی سے کہتے ہیں اور ایسے لوگ بے ایمان ہوتے ہیں۔باقی دلوں کے حالات کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے ہم کیا جانتے ہیں۔غرض ایسے فقرات جذبات اور فنا میں معمولی ہوتے ہیں ہاں شوخ لوگ ایسا کہنے والے احمق ہوتے ہیں۔والسلام۔( الحکم جلد۸ نمبر۴۱، ۴۲ مورخہ ۳۰؍نومبر، ۱۰؍دسمبر۱۹۰۴ ء صفحہ۱۷) کتاب سلاسل الفضائل خریدنے کی تحریک شیخ عبدالمحي صاحب عرب نے ایک کتاب مسمّٰی بہ سلاسل الفضائل، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل میں لکھی ہے۔عمدہ کتاب ہے اس کی قیمت مصنف نے چھ آنے مقرر کی تھی مگر چونکہ شیخ صاحب بہت مقروض ہوگئے ہیں اس لئے اب وہ اس کتاب کو اصل قیمت پر میری معرفت فروخت کرنا چاہتے ہیں