ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 211 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 211

استفسار اور ان کے جواب (۱)۔دعا کس وقت کی نماز میں کرنی چاہیے۔(۲)۔سنتوں میں یا فرضوں میں مانگنی چاہیے۔(۳)۔دعا رکوع میں یا رکوع کے بعد یا سجود میں یا التحیات سے بعد مانگنی چاہیے۔(۴)۔نماز تہجد کس وقت سے کس وقت ہوتی ہے۔(۵)۔سحری سے بعد وقت ہوتا ہے یا کہ نہیں، نماز تہجد کا۔(۶)۔دعا تہجد میں کس طرح کرنی چاہیے بعد میں یا پہلے یا درمیان میں اور استخارہ کس طرح کرناچاہیے۔جواب (۱)۔دعا کے لئے نماز میں التحیات کے اخیر درود کے اور سلام سے پہلے عام موقع ہے اور تکبیر تحریمہ کے بعد اور خود الحمد ساری دعا ہے رکوع اور سجدے بھی دعاؤں کی جگہیں ہیں۔سخت ضرورت کے وقت رکوع سے پہلے اور بعد بھی انسان دعا کر سکتا ہے۔(۲)۔دعا سنتوں اور فرضوں دونوں میں مانگنی چاہیے۔(۳)۔کا جواب نمبر ایک میں ہی بیان کردیا ہے۔(۴)۔عشاء کی نماز کے بعد جب انسان سویا ہوا اٹھے تو اس کو صبح صادق سے پہلے کُل وقت تہجد کے واسطے ہے۔(۵)۔سحری کا کھانا صبح صادق تک جائز ہے اور ایسا ہی تہجدوں کا پڑھنا بھی اس وقت تک جائز ہے۔سحری کو دیر کر کے کھانا چاہیے پھر صبح صادق کے وقت نہیں اور تہجد صبح صادق تک جائز ہے۔جیسا سحری صبح کاذب میں کھانا جائز ہے ایسا ہی تہجد بھی صبح کاذب میں پڑھنا جائز ہے۔(۶)۔تہجد کی نماز دو رکعت کر کے پڑھے اور دو رکعت کے بعد سلام پھیر تا رہے۔