ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 210
نہیں ہو سکتا۔پھر یہ کہنا کہ قرآن کریم کے بعض مسائل عقل کے خلاف ہیں۔محض غلطی اور نادانی ہے جس کو ہم ہر گز مان نہیں سکتے۔مثلاً آنکھ نے دیکھا کہ یہ دیوار ہے مساس نے مس کیا کہ یہ مضبوط ہے کھٹکھٹانے سے کان نے سن لیا کہ یہ ٹھوس ہے۔سونگھنے سے معلوم ہواکہ مٹی کی بو آتی ہے۔پس یہ مٹی کی ہے اور قوتِ ذائقہ نے چکھ کر معلوم کر لیا کہ یہ ضرورمٹی کی بنی ہوئی ہے۔پس ان کے بعد عقل کہتا ہے کہ کسی غرض کے واسطے بنائی گئی ہے اور کوئی اس کا بنانے والا بھی ضرور ہے۔اب بتلاؤ کہ اس نے جو رائے لگائی ہے اس میں ان حواس کے خلاف کیا بیان کیا ہے؟ گو اس نے ایک بات حواس کی رائے کے بعد نئی نکالی ہے یعنی اس کا کوئی بنانے والا ضرور ہے مگر عقل کا کام علیحدہ ہے اور وہ نتیجہ نکالنا ہے اور وہ متناقض ہرگز نہیں ہو سکتا۔ہاں ہم یہ مانتے ہیں کہ سب سے بالا تر قوت ہے پر یہ ہمیں غلطیوں سے روکتی ہے۔سنن الٰہیہ کیا ہے واقعات میں کوئی چیز ہوتی ہے اور اس کی آواز سنی جاتی ہے۔مثلاً جب ہم ریل پر سوار ہوتے ہیں تو ہمیں درخت چلتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔پس اس کی تصدیق اور سچی بات کو دریافت کرنے کے واسطے ہم اسی وقت ریل سے اتر پڑتے ہیں اور آنکھ سے، کان سے، مساس سے تصدیق کرتے ہیں کہ ہاں ہماری آنکھ نے غلطی کھائی تھی۔یہ نہیں چلتے تھے بلکہ ریل چلتی تھی۔پس اگر حواس میں کسی قسم کی غلطی آجاتی ہے تو عقل اس کی تصحیح کرتی ہے۔پھر بعض لوگ نادانی سے سوال کر دیتے ہیں کہ اگر عقل اور شریعت میں باہم مخالفت نظر آوے تو کیا طریق اختیار کرنا چاہیے۔اگر کہو کہ عقل مقدم کی جاوے تو اگر عقل کو مقدم کرنا ہے تو شریعت کی ضرورت ہی کیا تھی اور کیا ہے؟ اگر کہو کہ شریعت مقدم کی جاوے تو شریعت کے ہم اس وقت پابند ہیں جب ہم عاقل ہو جاویں۔پس عقل تو جڑھ ہے شریعت کی۔اگر جڑھ غلط ہے تو فرع بھی غلط ہی ہوگی نہ کہ صحیح۔پس یہ سوال ہی غلط ٹھہرا۔