ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 209 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 209

مخالفوں کے درمیان ہے اور اس طرف توجہ ہی نہیں کرتے۔یہ لوگ بھی اچھے نہیں کیونکہ ایک عظیم الشان شور و غل میں اچھے اور جھوٹے میں تمیز کرنا نہیں جانتے۔تیسرے وہ لوگ ہیں جو ہمارے اور ہمارے مخالفوں کے معاملہ میں خوب غور کرتے ہیں اور اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ حق ظاہر ہو اور اس کے متبع بن جاویں۔اور بعض ایسے لوگ جن کو یہ غور کرنے والا اچھا سمجھتا ہے ان کو متقی جانتا ہے وہ مخالفت کرتے ہیں تو یہ امر اور بھی اس شخص کے لئے موجب ابتلاء ہے۔تو ایسے شخص کا معاملہ حوالہ بخدا کرتا ہوں۔وَھُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ ا تَّقٰی وَعَلَّمَہٗ عِنْدَ رَبِّیْ وَ ھُوَ عَلِیْمٌ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ۔نورالدین ۲۰؍ جون ۱۹۰۴ء (البدر جلد ۳ نمبر ۴۴،۴۵۔۲۴نومبر ویکم دسمبر۱۹۰۴ء صفحہ ۱۳) حواس خمسہ ، عقل اور شریعت خدا تعالیٰ کی سب چیزیں یعنی دی ہوئی طاقتیں الگ الگ رنگ رکھتی ہیں پر وہ آپس میں ہرگز متخالف نہیں مثلاً کان سے ہم بات سنتے ہیں پر آنکھ کو اس سے کوئی سروکار نہیں، کان کہتا ہے کہ یہ آواز عمدہ اور سریلی ہے یا بُری اور ٹھہرائی ہوئی ہے پر آنکھ اس میں کوئی فیصلہ نہیں کرتی آنکھ کسی چیز کو خوبصورت یا بد صورت دیکھتی ہے پر کان کا اس میں کچھ دخل نہیں۔علیٰ ھٰذا القیاس ناک خوشبو یا بدبو کو محسوس کرتا پر نہ اس سے آنکھ اور کان کا کوئی واسطہ ہے اور نہ اس کو آنکھ اور کان سے کوئی تعلق ہے، اسی طرح قوت ذائقہ اور قوت لامسہ۔پس یہ آپس میں ضد ہر گز واقع نہیں ہوئیں پھر عقل بھی اسی طرح کی ایک طاقت ہے وہ ان کے خلاف کیونکرہو سکتی ہے وہ بھی دید شنید، ذوق، شم، مساس وغیرہ کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں دے سکتی۔اسی طرح فطرت، سنن الٰہیہ یہ سب قویٰ از عطایاتِ ربّ العالمین ہیں اور کسی طرح یہ آپس میں متخالف نہیں ہو سکتے۔پس عقل بھی خدا کی بنائی ہوئی اور دی ہوئی طاقت ہے اور سنن الٰہیہ بھی اسی خدا کی بنائی ہوئی چیزیں ہیں۔پس ان کا آپس میں کوئی جھگڑا یا تناقض ہر گز