ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 206
یسرنا القرآن کے معنے پھر ایک شخص نے مجھ پر سوال کیا کہ یسرنا القرآن کے کیا معنے ہیں جبکہ قرآن کے معانی بڑے ادق اور مشکل ہیں۔جواب (۱)۔نیچر یا عقل یا کتب سے متفرق طور پر مضامین اگر تلاش کرنے پڑتے تو کتنا مشکل ہوتا یہ ہم پر قرآن کا احسان ہے کہ جہان بھر کے متفرق اقوال سچائی اور توحید کے بھرے ہوئے ہمارے لئے یکجا کر دیئے۔پھر ہمیں یہ دقّت ہوتی کہ جہان بھر کی کتابیں جو بعض مل سکتیں اور بعض کا ملنا ناممکن ہوتا، تلاش کر کے ان کو پڑھتے اور پھر ان میں سے سچ اورجھوٹ کو الگ کرتے اور نیک وبد کی تمیز کرتے پھر اس سب کو کسی خاص زبان میں ایک جگہ جمع کرتے اس قدر تضیع اوقات اور ان تمام دقتوں سے قرآن کریم نے ہم کو بچا لیا۔(۲)۔پھر برہمو کہتا ہے کہ یہ سب احکام کانشنس میں جمع ہے۔ان کی اطلاع کی ہمیں ضرورت نہ تھی۔پر پہلے کوئی شخص ماں سے نکاح کرتا اور اس سے جماع کر کے بچہ پیدا کرتا اور پھر اس کے بدنتائج معلوم کرتا تو پھر وہ کہہ سکتا کہ ماں سے جماع کرنے سے یہ نقصان ہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے۔پھر کوئی دوسرا شخص کہتا کہ تمہاری تحقیقات اور تجربہ غلط ہے ہم تجربہ کرتے ہیں اور قرآن کریم نے ہم کو ان ساری دقتوں سے بچا لیا۔(۳)۔پھر قرآن کریم نے تمام دعاوی کو دلائل سے ثابت کر دکھایا ہے۔(۴)۔پھر قرآن جامع ہے تمام مختلف چیزوں کا۔جیسے فرمایا۔ (النحل : ۶۵) یعنی قرآن کریم اختلافات کو بیان کرنے کے واسطے آیا ہے مثلاً کہیں آدم، نوح، ابراہیم، موسیٰ وغیرہ انبیاء کی موت کا کہیں ذکر نہیں کیا اگر کیا ہے تو صرف مسیح کا ہی ذکر کیا ہے جس سے معلوم ہوتاہے کہ یہ فیصلہ آنحضرت کے تیرہ سو برس بعد ہی ہوگا۔پھر اس کی مثال دی ہے(البقرۃ :۲۳) یعنی یہ غلہ اناج وغیرہ