ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 205
ہر ایک چیز کو موت کیوں لگائی گئی؟ ہر ایک چیز چاہتی ہے کہ چونکہ میراخالق لا انتہا ہے اسی طرح میں بھی لا انتہا بن جاؤں پھر جب وہ بڑھنا چاہتی اور اپنی حد سے بڑھنے لگتی تو اس کو نابود کیا جاتا ہے اور اس کے صرف وہی اجزاء باقی رکھے جاتے ہیں جو اس کی تخم ریزی کے لئے باقی رہ سکیں تاکہ اس کا نام ونشان دنیا سے نابود نہ ہو جاوے مثلاً اگر ایک گائے ہو اور وہ نو۹ ماہ کے بعد ایک بچہ دیوے اور پھر کچھ عرصہ کے بعد ان کے پھر بچہ پیدا ہوں اور رفتہ رفتہ ان کے بچہ پیدا ہوتے جاویں اور وہ سب محفوظ رہیں تو ایک ہزار برس کے بعد دنیا میں کل جگہ صرف گائیوں سے ہی پُر ہو جاوے اور انسان اور دوسری مخلوقات کے واسطہ جگہ باقی نہ رہے۔یا مثلاًاگر بڑھ کے درخت کے تمام بیجوں کو محفوظ رکھ لیا جاوے اور ان سب سے بڑھ پیدا ہوں اور سب محفوظ رہیں تو کچھ عرصہ کے بعد دنیا میں سوائے بڑھ کے اور کچھ نظر نہ آوے علٰی ھٰذا القیاس۔ہم جب بچہ تھے تو ہمارا قد کتنا تھا اور آہستہ آہستہ بڑھتا گیا مگر کچھ عرصہ کے بعد اس حد تک پہنچا تو پھر آئندہ اس کی ترقی بند ہو گئی۔پس اسی طرح ہر ایک چیز کی ایک حد ہوتی ہے جب وہ اس حد تک پہنچ جاتی تو پھر اس کو روک دیا جاتا ہے۔ضرورت قرآن ایک شخص پادری نے کتاب لکھی ہے عدم ضرورت قرآن اور اس کی دلیل یہ لکھی ہے کہ چونکہ یہ ساری صداقتیں پہلی کتابوں میں موجود ہیں اس لئے اس کی ضرورت نہیں۔فامّا الجواب۔انجیل کی ساری تعلیم توریت میں موجود ہے پھر انجیل کی ضرورت نہ تھی۔توریت کی تعلیم قانون بابلیوں میں موجود تھی پس توریت کی ضرورت نہ تھی۔قانون بابلیوں کی تعلیم وید میں موجود تھی پس قانون کی ضرورت نہ تھی اور وید کی تعلیم ژند وست میں موجود تھی پس وید کی ضرورت نہ تھی اور برہمو کہتا ہے کہ یہ سب احکام نیچر میں موجود ہیں پس کسی کتاب کی بھی ضرورت نہ تھی