ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 203 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 203

سود کے جواز یا عدم جواز کے متعلق ارشاد سوال دوم۔سود کے جواز یا عدم جواز پر جو آج کل بحثیں ہورہی ہیں جناب مرزا صاحب کا اس بارہ میں کیا ارشاد ہے؟ الجواب۔حضرت امام علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حضور متعدد مرتبہ سود کے متعلق مختلف پیرایوں میں پوچھا گیا ہے آنحضرت جیسا کہ قرآن شریف اور نبی کریم ﷺ کے کلمات طیبات اور تعامل اسلام سے پایا جاتا ہے ہر قسم کے سود کو حرام بتاتے ہیں اور کسی صورت میں اس کے جواز کے قائل نہیں اور ہوں بھی کس طرح جبکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے  (البقرۃ : ۲۷۷) اللہ تعالیٰ نے ربا کے محق کرنے کا ارادہ کیا ہے اور دوسری جگہ فرمایا  (البقرۃ : ۲۷۶) یعنی وہ لوگ جو سود لیتے ہیں نہیں اٹھیں گے قیامت کے دن مگر اس طرح جیسے شیطان نے مس کر کے انہیں دیوانہ بنادیا ہو۔اور آنحضرت ﷺ نے فرمایا لَعَنَ اٰکِلَ الرِّبَا وَمُوْکِلَہٗ وَکَاتِبَہٗ وَشَاہِدَیْہِ(السنّۃ للمروزی ذِکر سنن النبی حدیث نمبر۱۸۹) یعنی آنحضرت ﷺ نے سود کھانے والے کھلانے والے اور اس کے گواہوں اور وثیقہ لکھنے والوں پر لعنت کی ہے۔اس سے بڑھ کر اور تہدید کیا ہو اللہ تعالیٰ سود کو حرب من اللہ ٹھہراتا ہے۔غرض اللہ تعالیٰ اس کو حرام ٹھہراتا ہے رسول کریم ﷺ لعنت بھیجتے ہیں تعامل اسلام میں کوئی اس کا مجوز نہیں۔پھر اس کے جواز کی کون سی دلیل شرعی ہوسکتی ہے یہاں تک مشاہدہ صحیحہ میں بھی اس کے خلاف ہے۔بڑے بڑے بنکوں کے دیوالے نکلتے آپ نے دیکھے نہیں تو اخبارات میں ضرور پڑھے ہوںگے۔یہ آفت اسی سود کی وجہ سے آتی ہے اور ایسے باریک در باریک اسباب کے ذریعہ سے آتی ہے کہ دوسرے اس کو نہیں سمجھ سکتے۔جن لوگوں نے سلطنت لکھنو کے زوال کے اسباب پر غور کی ہے وہ منجملہ اسباب کے ایک وجہ سود بھی ٹھہراتے ہیں جو پرامیسری نوٹوں کے رنگ میں لکھنو کے اعیان سلطنت میں مروج