ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 202
تاویل رکیکہ کی بھی ضرورت نہیں پڑتی اور قرآن کریم کی عظمت کو ظاہر کرنے والے ہیں اس آیت سے اوپر قتل مسیح یاان کے مصلوب ہونے کی بحث اللہ تعالیٰ نے شروع فرمائی ہے۔جیسا کہ فرمایا (النساء : ۱۵۸ تا ۱۶۰) اور یہودیوں کے اس قول پر نظر کرو کہ ہم نے یقینا مسیح عیسیٰ ابن مریم کو جو اللہ کا رسول ہے قتل کر ڈالا بحالیکہ انہوں نے نہ اس کو قتل کیا اور نہ ان کو صلیب دی ہاں یہ تو ہوا کہ وہ مشابہبالمصلوب ہوگیا اور بے شک جو لوگ قتل مسیح میں اختلاف کرتے ہیں وہ اس بارہ میں شک میں ہیں ان کو اس قتل کا یقینی علم نہیں وہ صرف ظن کی اتباع کرتے ہیں یہودیوں نے یقینا یقینا اس کو قتل نہیں کیا۔بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو طبعی موت سے وفات دے کر ان کا رفع کیا (جو مقتول یا مصلوب کا نہیں ہوتا) اور اللہ تعالیٰ عزیز و حکیم ہے۔اور کوئی بھی اہل کتاب میں سے نہیں جو قتل مسیح پر اپنی موت سے پہلے ایمان نہ لارہا ہو اور قیامت کے روز مسیح ان پر گواہ ہوگا۔ان آیات پر غور کرنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں مختلف طرز اور رنگ میں نفی قتل کی ہے۔اور یہی مضمون زیر بحث چلا آتا ہے اور یہ واقعات اور مشاہدہ صحیحہ کے موافق ہے۔کیونکہ ہر ایک یہودی اور عیسائی نے مسیح کے اس قتل بالصلیب کو اپنا ایمان مانا ہے عیسائی تو اس پھانسی کو کفارہ کے رنگ گناہوں میں ایمان مانتے ہیں اور یہودی ان کے ادعائے نبوت کے ابطال کے لئے۔ایسی صورت میں لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ کے معنے کیسے کھلے اور صاف ہیں۔ہر ایک یہودی اور عیسائی اس پر ایمان لایا ہے اور لا رہا ہے اور لائے گا۔امید ہے کہ اس قدر تصریح اس آیت کی کافی سمجھی جاوے گی۔اگر اس پر کوئی اور کلام ہو تو اس پر پھر نظر کی جاسکتی ہے۔