ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 199
ور کچھ انسان اور بہت سارے حصہ کو اس میں سے بھی ہواگرا دیتی۔پھر جو باقی رہتے اس میں سے چٹنی، اچار اور مربہ کے واسطے توڑے جاتے۔پھر جوان سب صدموں کے بعد باقی رہ جاتے وہ بھی سارے کے سارے ایک دم نہیں پکتے۔پھر مصلحت الٰہی ایسی ہوتی کہ کروڑ در کروڑپھول میں سے سو پچاس پھل پکتا ہے۔اسی طرح عورت کو بھی ایک شہوت کا جوش ہوتا ہے۔پس علم والے لوگ جانتے کہ جس طرح مرد کے اندر سے رطوبت نکلتی اور اسی قدر عورت کے اندر سے بھی نکلتی ہے اور وہ بھی اسی طرح ضائع ہوتی جس طرح مردکی۔پھر لکھا ہے کہ کوئی خاص حصہ ماں کا اور کوئی خاص حصہ باپ کا آپس میں پیوست ہو جاتا ہے اور اس کی یہ شکل بنتی ہے۔۔پھر اس کے درمیان والا ٹکڑا اس میں سے نکل کر الگ جا کھڑا ہوتا پھر اس کی یہی شکل بن جاتی ہے اور اس کا درمیانی ٹکڑا الگ جاکھڑا ہوتااور اس کی پھر یہی شکل بنتی۔علیٰ ہذا القیاس۔ایک عرصہ کے بعد ایک مدوّر شکل میں ایک اس طرح کی صورت بنتی۔ پھر ان کل شکلوں میں سے جو ہزار در ہزار ہوتی ہیں صرف ایک کا بچہ بنتا باقی سب ضائع ہو جاتی ہیں۔چنانچہ جب بچہ پیدا ہوتا تو اس کے ساتھ کتنا بڑا گند کا لوتھڑا نکلتا جو وہ ضائع شدہ اجزا ہوتے ہیں۔اس میں سِر یہ ہے کہ جو حصص کچھ قابلیت رکھتے ہیں وہ چن کر الگ کر لئے جاتے ہیں پھر ان کے اخلاق اور عادات اس بچہ میں آجاتے ہیں۔اس میں غذاؤں اور ملکوں کی آب وہوا کا بھی کچھ حصہ ہوتا ہے۔اب معلوم نہیں کہ جس جز وکا بچہ بنا ہے وہ ماں کا ہے یاباپ کا۔ہاں باپ کا ہونا نہ ہونا وہاں بھی مرزا صاحب نے مانا ہے کہ مریم کا خاوند کوئی شخص یوسف نامی تھا۔رہی یہ بات کہ مسیح کس کے نطفہ سے تھا۔پھر اب ہمیں تو ویسے بھی یہ پتہ نہیں مل سکتا کہ وہ بچہ باپ کے اجزا سے ہوتا …… یا ماں کے اجزاء سے پیدا ہوا ہے۔