ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 197 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 197

کو غیب الغیب رنگ میں فرض کرے جیسے قرآن نے فرمایا  (البقرۃ:۴) اور اس کو اسی طرح اپنے رنگ میں پکارے اور کچھ غرباء اور مساکین کی مدارات اور دستگیری کرے اور فرضی طور پر ہی یہ بھی مان لے کہ خدا کسی کو کچھ عطا بھی کرتا ہے اور اس کا مکالمہ بھی ہوتا ہے پھر فرضی دعا اور فرضی امداد سے کام لے۔اس کے سوائے کبھی سچی راہ مل سکتی ہی نہیں۔دیکھو ایک پولیس انسپکٹر کو ایک چور کہتا ہے کہ فلاں شریف آدمی کے گھر میں میں نے اپنا مال مسروقہ رکھا ہوا ہے اور وہ جھٹ وہاں پہنچ کر تلاشی لے لیتا ہے۔یہ کبھی خیال نہیں کرتا کہ یہ تو چور اور بد معاش ہے اس کی بات کا کیا اعتبار ہے پس اس کو ایمان بالغیب کہتے ہیں۔پھر دعائوں میں اعلیٰ درجہ کی دعا سورہ فاتحہ ہے۔یہ سیدھی اور صاف دعا ہے اور چاہیے کہ بدُوں نماز کے بھی ہر وقت اس دعا کو مانگے۔یہ ایک ایسی دعا ہے کہ اگر انسان متعصب نہ ہو تو کوئی مذہب اس سے انکار نہیں کر سکتا اور نہ اس کی مثل لا سکتا ہے۔میں نے ایک برہمو سے پوچھا کہ تمہارا اصل اصول کیا ہے اس نے کہا دعا۔میں نے کہا تم غلط کہتے ہو۔کہا کس طرح۔میں نے کہا مشاہدہ۔کہا وہ کیوں کر۔میں نے کہا تم اپنی کوئی اعلیٰ درجہ کی دعا سناؤ تو سہی۔پھر اس کو شرم آگئی اور کچھ دیر چپ ہو کر کہا کہ آپ ہی سنائیں۔میں نے کہا دعویٰ تمہارا اور سناؤں میں۔خیراس کے اصرارکرنے پر میں نے سورہء فاتحہ میں بہت ساری باتیں مد نظر رکھ کر سنانا شروع کیا تو اس نے جھٹ نوٹ بک نکال کر نوٹ کرنے شروع کر دئیے اور کہا کہ اصل دعا یہی ہے۔پھر قرآن سمجھنے کا خاص قاعدہ جو میرا اپنا مجرب ہے پہلا تو یہ ہے جو میں نے بیان کیا ہے۔دوسرا۔تقویٰ کے بعد جب قرآن پڑھے تو اپنا خیال و اعتقاد ،اپنا ارادہ، اپنی خواہش مقدم نہ رکھے بلکہ یہ خیال رکھے کہ جو قرآن کا حکم ہو گا وہی میرا ایمان ہوگا۔پھر دُعا کر کے شروع کرے اور یوں یقین کرے کہ یہ قرآن اس وقت مجھ پر نازل ہو رہا ہے۔میں آدم ہوں یا فرشتہ یا ابلیس و شیطان۔میں فرعون ہوں یا موسیٰ۔وغیرہ وغیرہ۔کُل قرآن کو اپنے اوپر چسپاں کرتا جاوے۔