ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 196
ت ہے کسی احمق نے اسی آیت پر یہ بھی کہا ہے کہ انجیل مبدّل نہیں ہوئی ، ہم کہتے ہیں کہ یہ تو صاف بات ہے کہ وہ انجیل جو مسیح کی زبان میں تھی یہ نہیں۔کیا مسیح اردو یا انگریزی بولتا تھا سوائے اس کے لَامُبَدِّلَ کے معنے اور کوئی بن سکتے ہی نہیں۔پھر فرمایا ہے۔ (الانعام:۳۵)یعنی گذشتہ انبیاء کی باتیں تیرے پاس پہنچی ہیں۔یعنی جس طرح ان کے مخالف ہمیشہ ہلاک ہوتے رہے اسی طرح اب تیرے مخالفوں کی بات بھی اٹل ہے۔پھر فرمایا ہے۔ ۔کیا یہ پوری ہوئی کہ نہیں۔مثلاًمرزا صاحب کی مخالفت پر لوگوں نے کتنا زور لگایا ہے۔مگر وہی ِ کیسا پورا ہو رہا ہے۔اندر ہی اندر کشش ہو رہی ہے۔کوئی ہے جو اس کو ٹلا دیوے۔۲۔عربی کی اقسام اور سیکھنے کا طریق عربی سیکھنے میں ہماری یہ رائے ہے کہ عربی پانچ قسم کی ہوتی ہے۔پہلے سوچے کہ اس کو کونسی قسم کی ضرورت ہے۔اوّل قرآن کریم کی عربی۔یہ تو قرآن ہی پڑھنے سے آوے گی۔دوئم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عربی۔یہ آنحضرت کے کلمات یعنی احادیث کے پڑھنے سے آوے گی۔سوئم صحابہ و تابعین و ائمہ دین کی عربی۔یہ صحابہ و تابعین و آئمہ دین کے اقوال پڑھنے سے آوے گی۔چہارم ان بد معاشوں اور شہدوں یا ایام جاہلیت کے شعراء و خطباء کی عربی جو زمانہ جاہلیت میں گذرے ہیں۔یہ ان کے اشعار و خطب پڑھنے سے آوے گی۔قرآن کریم سیکھنے کے اصول اب قرآن کے سیکھنے کے اصول یہ ہیں اوّل تقویٰ۔تقویٰ کے متعلق ابتدائی حالت اتنی تو ہوکہ ایک شخص اپنے طور پر گو خدا کی ہستی کو نہیں جانتامگر جتنے علوم دنیا میں شروع ہوئے ہیں پہلے فرضی طور پر شروع ہوئے ہیں جیسے یو کلڈ۔پھر بات فرض سے شروع ہوئی اور انجینیئرنگ اور اسٹرانومی تک جا پہنچے مگر بشرطیکہ فرض سچا اور مفید ہو۔پھر خدا کی ہستی