ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 195
کے سوائے کوئی حاکم نہیں اس نے تفصیل کے ساتھ کتاب نازل فرمائی اور جن کو یہ کتا ب نازل فرمائی اور جن کو یہ کتاب دی ہے وہ بھی اس کو جانتے ہیں کہ ضرور یہ ربّ کی طرف سے ہے۔تیرے ربّ کی باتیں پوری ہوچکی ہیں ان کو کوئی بدلا نہیں سکتا۔کیسی سیدھی بات ہے کلمہ بات کو کہتے ہیں پھر کیا (الانعام:۳۵) کے یہ معنے ہو سکتے ہیں کہ قرآن کو کوئی شخص غلط نہیں لکھ سکتا یا کیا حافظ لوگ بعض وقت اس کو غلط نہیں پڑھتے۔پھر کیا اس کے یہ معنے ہو سکتے ہیں کہ کوئی شخص اس کو بدلا نہیں سکتا یا کیا آئندہ کوئی کلمہ نازل نہیں ہو گا بلکہ اس کے معنے تو یہ ہیں کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ ہو کر رہتا ہے۔تیرے ربّ کی بات صدق اور انصاف سے ٹھیک پوری ہوئی اور کبھی کوئی اللہ کی باتیں بدلانے والا نہیں۔جو کچھ اللہ تعالیٰ نے فرمایا پورا ہو کر رہتا ہے مثلاً فرمایا (المؤمن:۵۲) تو ہمیشہ پورا ہوا۔نبی کریم کو تسلی دی کہ تیرے ساتھ بھی وعدے ہوئے کہ تو مظفر ومنصور ہوگا اور تیرے دشمن ناکام ہوں گے یہ باتیں پوری ہو کرہی رہیں گی۔پس تیرے ربّ کی باتیں سچی ہیں یعنی جو کچھ پیشگوئیاں خدا نے رسول کی نسبت بتلائی ہیں یہ اٹل ہو کر رہیں گی اور ضرور پوری ہوں گی مثلاً کفار مکہ کو کہا (التحریم:۸) یہ اٹل ہے اور ضرور بدلہ مل کر رہے گا پھر کیسی پوری ہوئی۔پھر کیا یہ لوگ مال خرچ کریں گے تیری مخالفت پر،مگر ان کواس کے خرچ پر سوائے افسوس کے کچھ نہ ملے گا اور مغلوب کئے جاویں گے۔کیا یہ بات اٹل پوری ہوئی کہ نہیں۔کیونکہ وہ توصدقاً ہیں یعنی سچ ہو کر رہنے والی ہیں۔ایک دفعہ عروہ نے آنحضرت سے آکر کہا کہ یہ تمہارے ساتھ مختلف قوموں کے لوگ ہیں ایک جتھانہیں۔یہ تمہارے آڑے وقت پر کام نہیں آویں گے اور میں اس کا تجربہ کار ہوں۔تمہیں اس میں ندامت ہو گی۔مگر یہ اس کا ظن تھا اور یہ ظن غلط نکلا۔اب بھی لوگ اسلام کی بربادی کے سامان تلاش کر رہے ہیں۔مگر دیکھو کہ انہیں کے گھرمیں اسلام گھستا جاتا ہے اور ایک دن ان کا یہ ظن کہ اسلام برباد ہو جائے گا غلط نکلے گا۔یہ کیسی سیدھی