ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 192
جاوے۔بارگاہ الٰہی کایہ منشاء ہرگز نہیں ہو تا کہ ان کتابوں یا مامورین کی پرستش کی جاوے۔صرف یہی مقصد ہوتاہے کہ حسب تقاضائے فطرت جس تضرع کی ضرورت دنیا کو ہوتی ہے اس کا علم اور طریق عمل ان کو بتلا کر خدا کی رضا حاصل کرنے کا راستہ کھول دیا جاوے۔طاعون کے اصل مقصدتضرع کے لحاظ سے تین گروہ انسانی پس اس وقت طاعون سے اصل مقصد جو تضرع ہے اس کے لحاظ سے انسانوں کے تین گروہ ہیں۔اوّل وہ لوگ جن کے پاس کوئی کتاب آسمانی نہیں۔ان میں طاعون اس لئے پڑتی ہے کہ امن اور چین کی حالت میں اگر انہوں نے الٰہی مامور فطرت انسانی کی آواز کو نہیں سنا تو اب اس طرح سے سن لیںاور منشاء سرکاری سے آگاہ ہو کر دائمی ہلاکت سے نجات پاویں اور تضرع میں لگ جاویں۔دوم وہ لوگ جن کے پاس کتب ربانی اموال قدیمہ اور اخبار و آثار موجود ہیں لیکن مامورموجود نہیں اس قسم کے لوگو ں کی خدا تعالیٰ نے دوہری مدد کی ہے کہ علاوہ ایک رہبر فطرت انسانی کے ایک اور مددگار ان کودے دیا ہے جس کے ذریعہ سے وہ اس طاعون کے زمانہ میں منشاء سرکاری سے آگاہ ہوسکتے ہیں۔اگراب تک وہ طاعون میں مبتلا نہیں ہوئے تو تضرع میں مصروف ہو جاویں۔سوم وہ لوگ جن میں علاوہ کتابوں کے کوئی مامور بھی ہو تو خدا کی راہوں کا پتہ لگ جانا بہت ہی آسان کا م ہے۔فطرت انسانی کی آوازکے سننے میں امکان ہے کہ مغالطہ ہو جاوے۔کتابوں کے ذریعہ منشاء ایزدی کے سمجھنے میں ممکن ہے کہ انسان غلطی کر بیٹھے مگر ایک مامور کے ہوتے ہوئے غلطی میں رہنا بہت محال بات ہے۔وہ اس لئے نہیں بھیجا جاتا کہ اس کی پوجا ہو بلکہ صرف اس لئے آتا ہے کہ اصل مقصود یعنی تضرع کا علم مخلوق کو دے وے کہ خدا کی رضا ان ایام میں اسی سے وابستہ ہے تم اس میں لگ جاؤ۔عام اصلاح کاذریعہ خدا تعالیٰ کو چونکہ عام اصلاح منظور ہے اور اس کا ذریعہ تضرع ہے۔اس لئے ہر ایک قوم، ہر ایک ملت خواہ کہیں آباد ہو وہ مواخذہ کے نیچے ہے۔پس اے احمدی لوگو! تم مامور کے مرید اور متعلقین میں سے ہو کر اگر تضرع نہ کرو گے تو تم بھی مجرم ہو گے اور دوسروں