ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 184 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 184

کیمپوں میں ضرور ہیں۔باتوں میں وہ حالت کہ الامان الامان۔ظاہر ہے کہ ایک مرد اپنا بیج بہت جگہ رکھ سکتا ہے مگر ایک عورت بہتوں کابیج پرورش نہیں کر سکتی۔طلاق کی مشکلات اور جن پر وہ مبنی ہے اس کو دیکھتے ہیں کہ فطری خواہش اولاد کی ہوتی ہے اور بعض عورتیں بانجھ ہیں عورتیں اپنے بعض عوارض سے مرد کو لباس نہیں بنا سکتیں یا ان کا رکھنا مالی اور جانی نقصانات کا باعث ہوتا ہے اور عملی رنگ میں ناجائز طور قضائے شہوات کرتی ہیں جسے امید پڑتی کہ طلاق کو جائز کر دیں۔علی الشیعہ (۱)۔قرآن کریم کے متعلق جیسے تفسیر میں لکھا ہے ان لوگوں کا خیال ہے کہ اس کی ترتیب کو عمداً بگاڑا گیا اور اس میں کمی کی گئی۔پھر ایسی کتاب کیونکر قابل تمسک ہو سکتی ہے۔(پھر حدیث ثقلین میں یہ پہلی بات ہی غیر مفید ہوئی)اسی واسطے صاحب مجمع البیان طبرسی افسوس کرتا ہے کہ تفسیر خاصہ(شیعہ)میں نہیں یا کم ہے۔(۲)۔حدیث کے پہلے مبلغ ان کے نزدیک (اَعَاذَ نَاللّٰہ) منافق، غاصب، مرتد اور بے دین تھے یا تقیہ باز۔پس وہ کیونکر مثبت کسی امر ونہی ہو سکتے ہیں۔(۳)۔فقہ و اصول فقہ قرآن وحدیث پر مبنی ہے جب اصل ہی نہیں تو فرع کہاں۔(۴)۔تاریخ میں چاہے واقعات صحیحہ کا بیان ہو یہ لوگ صحابہ کے بیان میں کوئی خوبی ابو بکر و عمر کی اور کوئی نقص اہل بیت کا بیان نہیں کر سکتے ہیں۔کاش (البقرۃ : ۱۱۴) پر تدبر کرتے۔(۵)۔تبّر ے کی ضرورت نے اخلاق وتصوف کو پاس بھی نہیں آنے دیا۔(۶)۔علم کلام تو امور بالا پر موقوف ہے اور تقیہ کے باعث ذہنی قویٰ مردہ یا پژمردہ ہو جاتے ہیں۔(۷)۔بڑے بڑے الفاظ میں کسی معصوم کی ضرورت کو ثابت کرتے ہیں مگر عملی فائدہ نہیں دکھا سکتے کہ وہ معصوم کہاں اور اس کے نواب و عمال کب معصوم ہیں۔