ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 178 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 178

پیارے عزیز۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ لوگ مجھے برا کہیں۔کہیںکافر کہیں۔کہیں زانی وفاسق وفاجر کہیں۔کہیں… مجھے یقین ہے تم میرے لڑکپن کے دوست۔اگرچہ میں ایسا ہی ہوںتب بھی ہرگز ہرگز ایسا یقین کیا گمان بھی نہ کرو گے وہم بھی نہ کرو گے۔تم نے کیوں خط وکتابت کو ترک کیا۔سبب تو کہو۔کیا تمہارے تعلقات اس امر کے ساتھ منحصر تھے جس کے ایفا کو قدرت نے، نہ تمہاری کوشش نے روک دیا۔نہیں۔نہیں۔نہیں۔لو میں ہی ابتداء کرتا ہوں تم کو اپنی محبت کی قسم دیتا۔اِلَّاکیا کروں شرک ہے۔بھلایہ تو لکھو اب جواب لکھو گے۔نورالدین ازپونچھ ریاست ڈاکخانہ کہوٹہ ضلع راولپنڈی۔۷؍ستمبر ۱۸۸۵ء ……………… لَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الکَاذِبِینَ۔منافق کے تین نشان ہیں۔ایک یہ کہ بات کہے اور جھوٹ بولے۔میں اس وقت ان دو بالا فقروں پراکتفاء کرتا ہوں۔السلام علیکم بھی نہیں لکھسکتا۔میری ہوش سے پہلے کے تم میرے پیارے اور عزیز اورسچ کہتا ہوں دلدار ہو۔میں نے آج تک تمہاری طرح کا عزیز دنیا میں نہ کیا اور اب تک تم سے وہی محبت ہے۔خدا گوا ہ ہے اور اس سے زیادہ کون گوا ہ ہو گا۔اگر تم جانو۔تم از یاد رفتہ نہیں۔تم کسی زمانہ کے دوست ہو۔اور اب بھی دوست ہو۔پیارے میں کیا پھنسا۔سنو بدگمانی شرع میں ممنوع ہے میں نے بھیرہ سے پیارے راحت جان کوخط لکھا۔راولپنڈی میں حکیم شیخ احمد نے کہا کہ تمہارا دوست تم پر سخت ناراض ہے کیونکہ تم نے اس سے کوئی وعدہ کیااور ایفاء چوراگئے۔میں نے کہا سچ ہے۔مگر میرا دوست شکوہ نہ کرے گا۔تب میں شرمندگی سے خاموش رہا۔ان دنوں ایک سخت نقصان سے جس کا بیان اس وقت مناسب نہیں زیر بار تھا۔میں نے چاہا زیر باری سے اللہ تعالیٰ نجات دے۔اِلَّا ابھی مبتلا تھا۔آپ کا کارڈ پہنچا اورحکیم کا قول سچ یقین کیا۔شیخ امام الدین رخصت پر ہے۔امروز فردا آنے والا ہے۔جس وقت آتا ہے ارشاد کی تعمیل ہو گی۔