ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 179
میں کون ہوں نام نہیں لکھتا۔از کشمیر ۲۳؍ساون۔۸؍اگست ۱۸۸۸ء ……………… تمہاری شکایت سچ اور بالکل سچ ہے۔اور میں یا میرا عذر عزیز من بالکل لغو اور پوچ ہے۔عزیز اگر تم مجھے تھوڑی دیر کے لیے سچا جانو تو میرے اس فقرہ پر یقین کرو۔من بدتر از کافر ہستم من بدترازکافر فرنگ ہستم۔میری حالت رحم کے قابل ہے اور ملامت کے قابل نہیں۔میں بہت جلدی بھیرہ میں آنے والا ہوں۔دیکھوگے توحیران ہو گے۔تمہارا سچا عاشق زار بالکل زارونزار ہے۔اچھا ملاقات پرشکوہ کر لینا… پھر عرض ہے اس تباہ کار پر رحم ہو۔والسلام از جموں ۶؍ اسوج۔۲۴ ستمبر ۱۸۸۸ء ……………… السلام علیکم۔کیوں صاحب کوئی خفگی ہے کوئی ناراضی۔مجھے وجہ رنج معلوم نہیں۔بھلا وہی لکھ دیجئے۔بھلا کیا کہ نہ سلام نہ خیر خیریت۔اچھا آپ کی مرضی ہو چکی۔اب خاکسار کی مرضی پر خط لکھ دیجئے۔خاکسار نورالدین ۸؍کاتک ازجموں ۲۱؍اکتوبر ۱۸۸۴ء ……………… پیارے عزیز۔السلام علیکم۔تم کہتے ہو گے ایک ناآشنا، بے وفا سے سابقہ پڑا۔اِنَّا لِلّٰہِ۔پیارے اورسچے پیارے! مجھے وہ محبت ایسی نہ تھی جومحو کے قابل ہوتی۔میں کشمیر سے آکر بیمار ہو گیا۔پانچ مہینہ کاعرصہ گذرتا ہے۔تپ وکھانسی درد عارض رہا۔بچنے کی امید مفقود تھی اب آرام ہے۔بغرض تبدیلی آب و ہوا کشمیر جاتا ہوں۔آپ کو اللہ کا نام یادلاتا ہوں مجھ پر عفو کر کے جواب ضرور دیجیئے۔پتہ ہمراہ کیمپ مہاراجہ جموں کشمیر نورالدین کو پہنچے یا جموں۔نورالدین ۲۳؍ مارچ ۱۸۸۸ء