ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 175 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 175

حضرت عیسیٰ ؑ کے صاحب شریعت نہ ہونے کا ثبوت گولیکی ضلع گجرات سے ذیل کا سوال آیا ہے۔سوال ۴: عیسیٰ علیہ السلام کے موسوی خلیفہ ہونے اور صاحب شر ع رسول نہ ہونے کا کیا ثبوت ہے اور (الشوریٰ: ۱۴) کا کیا جواب ہے۔جواب(۱) سورہ مزمل میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے  (المزمل: ۱۶) یعنی ہم نے تمہاری طرف ایسا ہی ایک رسول بھیجا ہے جیسے کہ فرعون کی طرف بھیجا تھا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صاحب شریعت بذات خود ایک نبی تھے ویسے ہی موسیٰ علیہ السلام بھی تھے جن سے آپ کوتشبیہ دی گئی۔اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اورموسٰی ؑ کے درمیانی زمانہ میں کوئی اور بھی صاحب شریعت نبی ہوتاتو اس کا حوالہ دیا جاتا اور کیوں نہ فر ما یا کَمَثَلِ عِیْسٰی۔(۲) قرآن شریف میں ہے (الاحقاف:۱۳) یعنی اس قرآن سے پہلے صرف موسیٰ علیہ السلام ہی کی کتاب ہے جو کہ امام اور رحمت ہے یعنی شریعت ہے جس پر کما حقہ عمل کر کے انسان قرب اللہ کے عالی مراتب حاصل کر سکتا ہے۔پس اگر قرآن شریف اور توریت کے درمیان کوئی اور کتاب بھی شریعت ہوتی یا نبی صاحب شریعت ہوتا تو اس کی کتاب کو امام اور رحمت کہا جاتا۔اس سے بھی ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑصاحب شریعت نہ تھے۔(۳) انجیل کے معنے خود بشارت یا خوشخبری کے ہیںاور اس قسم کی بشارتیں عموماًخداکے برگزیدوں پر نازل ہوا کرتی ہیںاس میں کوئی خصوصیت مسیح علیہ السلام کی نہیں ہے اورنہ اس میں کوئی شریعت ہے اور نہ انجیل کا خود دعویٰ صاحب شریعت ہونے کا ہے۔خود مسیح کا قول نقل ہے کہ میں توریت میںسے کوئی نکتہ اوپر تلے کر نے نہیں آیا یعنی کہ اسے برقرار رکھتا ہوں اس سے بھی ثابت ہے کہ مسیح علیہ السلام صاحب شریعت نہ تھے۔(۴) اس وقت عیسائی اقوام کا عملدرآمد بھی ایک بڑا ثبوت ہے کہ انجیل شریعت نہیں ہے