ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 171
آیا ہے ۱۔(البقرۃ :۱۹۲) ۲۔(محمد : ۵) میں ہے۔سوم وہ جن کا مفت چھڑانا ہی قرین مصلحت ہوتا ہے جن کا ذکر میں آگیا ہے۔چہارم وہ جن کا واپس کرنا یا ان کا بدلہ لینا یا قتل کرنا مناسب نہیں ہوتاایسے قیدی اب بھی مہذب گورنمنٹوں میں موجود ہیں اور پورٹ بلیر وغیرہ انہی سے آباد ہیں۔ایسے قیدیوں کے اگر شادیاں بیاہ روک دئیے جاویں تو ان کے فطری قویٰ پر کیسا برااثر پڑتا ہے۔میرے ایک انگریزی خواں دوست نے ایسا اعتراض کیا تو میں نے اس کو قیدیوں کی چار وں مثالوں سے سمجھایا تھا۔اوّل بیمار دانت کو باندھا جاتا ہے۔اس کی منجنوں سے مالش کی جاتی، پھر کاٹا جاتا، پھراکھاڑ کر باہر پھینک دیا جاتاہے۔یہی حال ہے قیدیان جنگ کا۔پس جو قیدی دائم الحبس ہوں کو بیاہ سے روکنا تو جائز نہیں۔پس مرد ہوں یا عورتیں سب کو نکاح کی اجازت ہے۔ہاں لونڈیوں کی تعلیم وتربیت چونکہ بڑی ضروری ہے اس واسطہ شریعت اسلام نے یہ تجویز کیا کہ گھر میں بچوں کی طرح ان کی تربیت کرو۔اگر مسلمان اس کے خلاف کرتے ہیں تو شرع کے خلاف کرتے ہیں۔حکم تو یہی ہے مَنْ… اَدَّبَھَا فَاَحْسَنَ تَادِیْبَھَا(مسند احمد ،مسند الکوفیین،حدیث ابی موسی الاشعری،حدیث نمبر۱۹۵۳۲) اور عَبِیْدُکُمْ خَوَلُکُمْ وغیرہ وغیرہ بلکہ لونڈیوں کے نکاحوں میںتو ایسی رعایتیں رکھی ہیں(النور:۳۳)۔ہاں جس شخص کو لونڈی سے بیاہ کرنا ہو اس کے لیے قرآن مجید نے کچھ شرطیں لگائی ہیںجیسے (النساء : ۲۶) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ لونڈیوں کے بیاہ خود کرنا علی العموم شریعت کو پسند نہیں اورتجربہ سے بھی ثابت ہوا کہ شاہان اسلام کے گھر میں لونڈیوں کی اولاد سے ہی سلطنت تباہ ہوئی۔ہاں آپ کے ہاں جو لونڈیاں ہیں ہم ان کوخود جانتے ہیں وہ تو لونڈیوں میں داخل معلوم نہیں ہوتیں۔والسلام ۲۳؍جنوری ۱۹۰۴ء۔( الحکم جلد ۸ نمبر ۴مورخہ۳۱؍جنوری ۱۹۰۴ء صفحہ ۴)