ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 158 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 158

حضرت ہاجرہؑ کی نیاز مندی کا طریق اس لئے آگے ایک عورت کی نیاز مندی کی طرز بیان کی کہ جب ہاجرہ علیہا السلام کو حضرت ابراہیمؑ نے صفا اور مروہ کے درمیان چھوڑا توہاجرہ علیہا السلام نے ابراہیم علیہ السلام سے پوچھا کہ ہمیں کس کے سپرد کرتا ہے تو ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا کہ خدا کے سپرد کرتا ہوں اور اسی کے حکم سے کرتا ہوں تب ہاجرہؑ نے کہا کہ جاؤ اللہ تعالیٰ ہم کو ضائع نہ کرے گا۔ایک مشکیزہ پانی کا پاس تھا جب وہ ختم ہو چکا اور دھوپ کی شدت اور بچہ کو تڑپتے اور جان بلب دیکھ کر وہ بے قرار ہوئیں تو ان پہاڑیوں پر کبھی چڑھتی اور کبھی اترتی تھیں اور ہر طرف نگاہ مارتی تھیں کہ کوئی قافلہ پانی لاتا ہو۔آخر خدا تعالیٰ نے ایک چشمہ پانی کا وہاں جاری کیا جو کہ زمزم کہلاتا ہے۔اس مقام پر ہاجرہ علیہا السلام نے خدا پر کیسا توکل کیا اور عاشقانہ نیاز مندی کا کیا ثبوت دیا، یہ نظارہ صفا اور مروہ کی پہاڑیوں کا طواف کر کے دیکھ لو وہ بھی سات ہی دفعہ چڑھیں اور اتری تھیں۔ابراہیمؑ کی خلوت نشینی اور ردّ بلا کے لئے قربانی چونکہ آبادی میں رہنے سے اکثر دل پر غفلت طاری ہوتی ہے اس لئے ہر ولی اللہ کو لوگوں سے الگ میدانوں میں بھی جانا پڑتا ہے۔ابراہیم علیہ السلام نے بھی جب یہ خیال کیا اور طبیعت میں جوش تو تھا ہی کہ دعا قبول ہو اس لئے ہجر میں گذرتے ہوئے بھاگے بھاگے عرفات کے جنگل میں گئے کہ وہاں تنہائی میں دعا کروں یہ نو میل کا فاصلہ تھا مگرپھر آپ نے دیکھا کہ اس بیرونی جگہ سے تو حرم ہی امن کی جگہ ہے اس لئے لوٹے اور مزدلفہ کے مقام پر جو عرفات سے واپس ہوتے ہوئے تین میل پر ہے ٹھہر گئے اور وہیں آپ کو یہ الہام ہوا۔الخ ( الصّٰفّٰت: ۱۰۳) اس وقت کا ایک بڑا سرِّ الٰہی ہے جسے اس وقت ہم بیان نہیں کر سکتے۔تاہم اشارتاً اسے سمجھ لو کہ عوام الناس میں بھی ہم یہ بات دیکھتے ہیں کہ جب بیماری یا کوئی اور دکھ وغیرہ تکلیف ہو تو اکثر قربانی کیا کرتے ہیں کہ وہ بلا ٹل جاوے اس کا راز یہ ہوتا ہے کہ جب موت کا نزول ہوتا ہے تو وہ بلا کھائے کے واپس نہیں جاتی تو جو