ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 148
اللہ تعالیٰ کا اپنی کبریائی و احسانات یاد دلانے کا مقصد انسانی بناوٹ میں ہے کہ اپنے سے بڑھ کر طاقت والے کی فرمانبرداری کرتا ہے اور اپنے محسن سے محبت کرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بارباراپنی کبریائی اور عظمت اور اپنے احسانات اور انعامات کو بیان کرتا ہے اور یاد دلاتا ہے تاکہ انسان اللہ تعالیٰ ہی کا سچا فرمانبردار رہے اور اس سے ہی سچی محبت کرے۔کونی اور شرعی اوامر خدا تعالیٰ کے کام اور اوامر دو قسم کے ہوتے ہیں ایکu کونی دوسرvے شرعی۔کونی اوامر کا کبھی خلاف نہیں ہو سکتا۔اس میں انسانی تصرف اور دخل کچھ نہیں ہوتا مگر اوامر شرعی میں انسانی دخل اور تصرف ہوتا ہے وہ چاہے کرے چاہے نہ کرے مثلاً ایک زبان ہی ہے اس میں جو قوتِ ذائقہ رکھی گئی ہے وہ امر کونی کے ماتحت ہے اگر اسے ہم کہہ دیں کہ تو اس قوت کو بدل دے اور نمکین کو شیریں اور شیریں کو نمکین بنا دے تو کبھی نہیں کر سکتی لیکن اس میں جو قوت گویائی ہے وہ امر شرعی کے ماتحت ہے۔اس سے اچھی اور نیک باتیں بھی بول سکتے ہیں اور بری اور ناپاک بھی۔یہاں تک کہ انبیاء رسل اور راستباز ان الٰہی کو گالیاں دینے والے بھی اسی زبان سے کام لیتے ہیں۔جو انسان شرعی امر کے ماتحت امر ونہی کا لحاظ رکھتا ہے اور اپنی عادت کو اس کا ماتحت بناتا ہے۔آخری اور انتہائی حالت اس پربھی پھر اسی قسم کی آجاتی ہے کہ وہ ایک رنگ میں کونی اوامر کے ماتحت ہو جاتا ہے یعنی صدور افعال حسنہ میں اس کو تکلف سے کام نہیں لینا پڑتا بلکہ بے اختیار وہ نیکی کے کام اس سے ہوتے رہتے ہیں۔( الحکم جلد۷ نمبر ۳۰ مورخہ ۱۷؍ اگست۱۹۰۳ ء صفحہ۵) غلاموں کے متعلق اسلامی تعلیم نادان اعتراض کرتے ہیں کہ مسلمانوں میں مسئلہ غلامی ہے حالانکہ اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جس نے غلاموں کے آزاد کرنے کے لئے مال خرچ کرنے کی ہدایت کی ہے۔