ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 145
فعل کو یا پیشہ کو یا بیوی کی محبت کو یا بچہ کے پیار کو سب سے بڑا مانا کہ جس کی اتباع کی۔غرضیکہ نماز کے پانچ اوقات اور اس کی ہر ایک رکعت اور قیام اور سجود اور رکوع ہرایک رکن انسان کی ہدایت کے لئے کافی ہے اور اگر وہ غور کرے تو دن میں پانچ دفعہ وہ اپنے نفس کا امتحان لے سکتا ہے؟خدا پر اپنے ایمان کا انداز ہ لگا سکتا ہے۔اسباب پرستی کے مرض نے کہاں تک اس کے قلب سلیم کو مائوف کیا ہوا ہے اسے دیکھ سکتا ہے۔خدا تعالیٰ اپنے فضل سے ہمیں یہ فکر، یہ دھن، یہ ایمان، یہ غیرت اور اس پر عمل کی توفیق عطا کرے۔(البدرجلد ۲ نمبر ۲۹مورخہ۷؍اگست۱۹۰۳ء صفحہ۲۳۰) اللہ تعالیٰ سے غافل کرنے والے امور اللہ تعالیٰ سے غافل کرنے والے امور کا نام قرآن شریف میں لَہْو ہے۔پس مومن کا کام یہ ہے کہ جس کام سے، جن مکانات میں، جس لباس سے، جس خوراک سے، جس مجلس میں بیٹھنے سے انسان کو اللہ تعالیٰ سے غفلت پیدا ہو اس سے ہجرت کرے اور یہی اس کا علاج ہے۔مختلف اقسام کے دوزخ اور ان سے بچائو کے طریق ایک دوزخ رذائل اخلاق سے پیدا ہوتا ہے اس سے بچنے کی تدبیر اخلاق فاضلہ کا اختیار کرنا ہے اوررذائل کا ترک۔ایک دوزخ امور معاشرت میں بے اعتدالی اور قصور سے پیدا ہوتا ہے اصلاح معاشرت اس سے بچا لیتی ہے۔ایک دوزخ انسان کی تمدنی حالت کے نقائص اور کمزوریوں سے پیدا ہوتا ہے اور اس کی اصلاح اس دوزخ سے بچا لیتی ہے۔خویش و اقارب سے بد سلوکی کا دوزخ صلہ رحمی سے دور ہو جاتا ہے۔حکام وقت کے احکام کی نافرمانی ایک دوزخ پیدا کرتی ہے جو اصول سیاست کی ماتحتی سے ہٹ جاتا ہے۔اور سب سے بڑھ کر وہ دوزخ ہے جو اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت نہ کرنے سے پیدا ہوتا ہے اور اس کا علاج اوامر و نواہی الٰہی کی پابندی ہے۔پس جس جس قسم کی دوزخ میں انسان ہے اس کی اصلاح اسے اس دوزخ سے بچالیتی ہے۔