ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 144 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 144

ایمان کا روزانہ معیار میرے مخدوم ومہربان حضرت حکیم نورالدین صاحب نے ایک درس میں ایک نکتہ بیان کیا جسے میں اپنے الفاظ میں تزکیہ نفس کی غرض سے پیش کرتا ہوں۔ایک زرگر یا کوئی اورپیشہ ور اپنے پیشہ کی دھن میں مصروف ہوتاہے یاایک میاں اپنی بیوی کے ساتھ اختلاط کرتا ہے یا ایک ماں اپنے من موہنے اور مسکراتے بچہ سے کھیل رہی ہوتی ہے یاایک ایڈیٹر اخبار کی نامہ نگاری میں قلم فرسائی کررہا ہوتاہے یا اور کوئی ماتحت اپنے آقا کی خوشنودی کے لئے سرگرمی سے ایک کا م کر رہا ہوتا ہے وغیر ہ وغیرہ کہ خدا کا ایک منادی اسے خدا کی طرف بلانے کا پیغا م اس کی حضوری میں حاضر ہونے کے لئے لے کر ان الفاظ میں آتا ہے کہ حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃِحَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ۔مگر وہ بندہ جو کہ اس امر کا مدعی ہوتا ہے کہ میرا خدا پر ایما ن ہے اور میں سب سے زیادہ عظمت، بزرگی، جلال، قدرت صرف اللہ تعالیٰ کی ہی مانتا ہوں وہ اس حکم کو سن کر سستی کرتاہے نفس اسے کہتا ہے کہ جس کام میں تو مصروف ہے اب یہ قریب الاختتا م ہے اسے ادھورا نہ چھوڑ۔تیرے خیالات منتشر ہوجاویں گے۔ابھی نماز میں کچھ دیر ہے تب تک ختم کر لے۔یہ نادان نفس کی آواز کو سنتا ہے اور اس کی مخالفت نہیں بلکہ اتباع کرتا ہے حتی کہ جماعت یا نماز کا اوّل وقت گزر جاتا ہے اور اس امتحان میں جو کہ خدا تعالیٰ نے اس کا لینا چاہاہے ناکام رہتا ہے۔اور اس فرشتہ کی تحریک پر عمل نہیں کرتا جو کہ اسے نیکی کی ترغیب دیتا ہے۔پھر جب وہ اٹھ کر اپنی فرصت نکال کر نماز کو آتا ہے او روضو وغیرہ کر کے نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے اور کانو ں تک ہاتھ اٹھا کر اَللّٰہ اَکْبَرُ یعنی اللہ سب سے بڑا ہے کہتا ہے تو اسے شرم کرنی چاہیے اور غیرت میں ڈوبنا چاہیے کہ وہ اس شہادت اور اس اقرار میں سراسر جھوٹا ہوتا ہے اگر وہ اللہ کو سب سے بڑا مانتا ہے تو جس وقت حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃِ کی آواز اس کے کان میںاوّل دفعہ ہی آئی تھی اس وقت سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر حضور الٰہی میں حاضر ہونے کی تیاری کرتامگر اب تو اس نے عمل سے بتلا دیا کہ جسے وہ سب سے بڑا ماننے کا اقرار کرتا ہے اس کی آواز کی اس نے پرواہ نہیں کی۔پس اس نے اپنے اس