ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 143 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 143

کے طرز عمل کے موافق ہو جو صواب کہلاتا ہے یہی معنے ہیں لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ کے۔لا الہ الا اللّٰہ اخلاص کی تعلیم دیتا ہے اور محمد رسول اللّٰہ صواب کے۔عبرت ہر ایک شخص کے لئے ایک زندہ مثال عبرت کی ہر جا موجود ہوتی ہے۔ہر نئے آباد شدہ شہر کے ساتھ اجڑا ہوا شہر ہوتا ہے۔ہر نئے امیر کے پاس اجڑے ہوئے امیر کا گھر ہوتا ہے۔پس وہ برباد شدہ شے اس کے لئے واعظ ہوتی ہے۔بڑا ہی بد بخت کون ہے؟ تین قسم کے لوگ بڑے ہی بد قسمت اور بدبخت ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ سے پناہ اور دعا مانگنی چاہیے کہ ان میں داخل ہونے سے بچاوے۔اوّل۔وہ شخص بڑا ہی بد بخت ہے جس کو علم ہو اور عمل نہ ہو یہ قرآن شریف کی اصطلاح میں ضال کہلاتا ہے۔دوم۔وہ شخص بڑا ہی بد قسمت ہے جو اپنے گناہوں اور بد کاریوں کو اچھا سمجھتا ہے۔(محمد : ۱۵) سوم۔جو گری ہوئی خواہشوں کا متبع ہو۔(محمد : ۱۵) پس مومن کو کیا چاہیے؟ مومن کو چاہئے کہ بڑا بلند پرواز ہو کہ اللہ کی رضا حاصل ہو کیونکہ ساری بلند پرواز گیوں کی انتہاء اللہ کی رضا ہے۔بلند پروازگی کے بالمقابل مومن کا ایک نزول بھی ہوتا ہے اور یہ نزول قرآن شریف میں شفقت علی خلق اللہ کہلاتا ہے۔اس نزول میں بھی ایک بلند پروازگی ہوتی ہے اور مومن بڑا ہی مستقل مزاج ہوتا ہے۔تمام بد کاریوں کی جڑ تمام مذاہب باطلہ اور آثام اور بد کاریوں کی جڑ قرآن شریفنے یہ بتائی ہے (الفتح : ۷) میں تمام بدیوں اور بدکاریوں کی جڑ اللہ تعالیٰ پر بد ظنی ہے مثلاً سارق اللہ تعالیٰ پر بد ظن رہتا ہے کہ اس کو بجز چوری کے رزق نہیں مل سکتا۔اس طرح پر تمام مذاہب باطلہ اور بدیوں کا حال ہے۔(الحکم جلد۷ نمبر۲۶ مورخہ ۱۷؍ جولائی ۱۹۰۳ء صفحہ۳ ،۴)