ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 142 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 142

ع۔علیم، عالم الغیب، العلی، عظیم، عزیز۔س۔سلام۔ق۔قاہر، قہار، قابض، قادر، قدیر،قیوم۔کافروں کی دو اقسام دو قسم کے کافر ہوتے ہیں۔ایک معمولی کافر دوسرے دہریہ۔موخر الذکر بڑے سخت کافر ہوتے ہیں جہاں دہریہ کافروں کا ذکر قرآن کریم کرتا ہے وہاں اللہ تعالیٰ نے ختم قلوب کے متعلق سمع کو مقدم کیا ہے کیونکہ دہریہ کا قلب نہیں ہوتا بلکہ وہ سماعی امور پر زیادہ زور دیتے ہیں اور کہتے سماعی باتوں کو نہیں مانتے اس لئے فرمایا ہے۔(الجا ثیۃ:۲۴) لیکن جہاں عام کفار کا ذکر ہے وہاں فرمایا (البقرۃ : ۸) آج کل کے خطرات مسلمان آج کل جن خطرات میں مبتلا ہیں اور جو ان کے زوال کا باعث ہوئے ہیں وہ یہ ہیں۔1۔قرآن شریف کا ترک 2۔نفاق 3۔مسلمانوں میں کبر بہت ہوگیا ہے۔4۔جھوٹ بڑھ گیا ہے۔5۔فضول خرچی کی عادت ہوگئی ہے۔6۔دینی معاملات میں کسل آ گیاہے۔لا الٰہ الا اللّٰہ محمّدٌ رّسول اللّٰہ کے معنے ہر عمل صالح کی تکمیل کے دو پہلو ہیں جب تک وہ دونوں پہلو پورے نہ ہوں کچھ نہیں ہوتا بلکہ اگر کوئی ایک پہلو رہ جاوے تو وہ عمل فاسد ہو جاتا ہے۔ایک ان میں سے اخلاص ہے یعنی اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہو۔دوسرے رسول اللہ صلی اللہ علیہ