ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 13
ایسے ہی ہوتے ہیں کہ جیسے معالم التنزیل میں طالوت کے ناپاک ارادوں کا ذکر ہے کہ اس نے جناب دائود علیہ السلام کو قتل کرنا چاہا۔افسوس۔پھر جب تاریخ قدیمہ سے بالکل ظاہر ہے کہ جالوت دو تھے۔ایک طالوت کے مقابل اور دوسرا دائود کے مقابل۔اسی واسطے قرآن کریم کے آخر دوسرے سیپارہ میں (البقرۃ : ۲۵۲) پر وقف دے کر کا تذکرہ الگ کر دیا ہے اور سائو ل کا کوئی قصہ قرآن کریم نے نہ فرمایا۔ایسا ہی صدہاقصص بنی اسرائیل کے بے جوڑمحشیوں اور مفسروں نے بدوں حجت نیرہ کتاب و سنت تفاسیر اور تراجم میں بھر دی ہیں۔اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّـآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔یہ تو بیرونی قصص کا نمونہ تھا اب اندرونی قصص پر گزارش کرتا ہوں۔ہمارے ہادی کامل کے قصص احادیث صحیحہ میں موجود ہیں مگر ہمارے مترجموں پر اللہ تعالیٰ رحم فرما دے کہ انہوں نے ان صحیح قصص کو چھوڑ کر کہاں کہاں موضوعات سے کام لیا ہے۔نمونہ کے طور پر زینب صدیقہ ام المومنین کا قصہ ہے جس کے متعلق افسوس ہزار افسوس نابکار لوگوں نے لکھ دیا کہ حضور علیہ السلام زینب کو دیکھ کر اس پر عاشق ہو گئے۔حالانکہ عشق کا لفظ ہی قرآن کریم اور احادیث صحیحہ میں موجود نہیں چہ جائے کہ عشق رسول اللہ زینب پر ہو اور پھر بالکل ظاہر ہے کہ ام المومنین زینب آپ کی پھوپھی زاد تھیں اور آپ کے آزاد کرد ہ غلام جناب زید رضی اللہ عنہ سے بیاہی گئیں اور نکاح ہمارے ہادی کامل کے فرمان سے ہوا اور اس زمانہ میں حجاب کی رسم نہ تھی۔یہ عشق کیسا۔کیا آپ نے زینب کو دیکھا ہوا نہ تھا یا ماریہ قبطیہ کا ناپاک قصہ کہ حضور نے اپنی بی بی کی لونڈی سے بدوں اجازت جماع کیا۔جس پر (التحریم : ۲) نازل ہوئی۔حالانکہ اصل قصہ صحیح طور پر بخاری میں موجود ہے۔حضرت شاہ ولی اللہ مجدد اور حکیم الامت نے بھی زینب کے قصہ میں لغزش کھائی ہے اور حجۃ اللہ البالغہ میں ایک لفظ لکھ دیا ہے جس سے ایک مومن رنج اٹھاتا ہے۔غَفَرَہُ اللّٰہُ بِفَضْلِہٖ وَ مَنَّـہٗ وَ کَرَّمَہٗ آمین۔فَاِنَّہٗ کَانَ نِعْمَۃً لِاَ ھْلِ