ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 137
اطاعت کی تین اقسام اطاعت تین طرح سے ہوتی ہے۔اوّل۔محبت اطاعت کا ذریعہ ہے محبوب کے حکموں کی فرمانبرداری کی جاتی ہے اور سب سے بڑھ کر محبوب خدا ہی ہے۔دوم۔خوف بھی ذریعہ اطاعت ہے سب سے زیادہ احکم الحاکمین کا خوف رکھنا چاہیے اور وہ اللہ جلّ شانہٗ ہے۔سوم۔اپنا حاجت روا جو ہو۔ہر حاجت کو پورا کرنے والا، حاجتوں پر پوری خبر رکھنے والا اور حاجتوں کے پورا کرنے پر قادر وہ صرف خدا ہی ہے۔گناہ سے بچنے کے گُر گناہ سے بچنے کے دو بڑے گُر ہمیشہ یاد رکھو۔اوّل۔ہر وقت دل میں یقین کرو کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اعمال دیکھتا اور جانتا ہے۔دوم۔اللہ تعالیٰ کی اس صفت پر ایمان لاؤ۔(البقرۃ : ۷۳) یعنی جو گناہ ہم پوشیدہ ہو کر کریں گے اللہ تعالیٰ اسے ظاہر کر دے گا۔شیطانی بہکاوے کا ایک انداز شیطان کبھی کبھی نیکی کے رنگ میں بھی انسان کو ہلاکت میں ڈال دیتا ہے ایسے اوراد اور وظائف بتائے جاتے ہیں کہ انسان باجماعت نماز سے رہ جاتا ہے۔پس انسان کو اپنی نیکیوں کاگمان اور غرور نہیں کرنا چاہیے اور چونکہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے مختلف قویٰ دئیے ہیں اس لئے جو بات اس کو نہیں دی گئی اس کو چاہیے کہ دوسروں سے لے کر اس کا فائدہ اٹھاوے اور اس میں اپنی کسرِ شان نہ سمجھے۔اس لئے فرمایا ہے (النحل : ۴۴)۔اولاد و اموال انسان کو کندن بنا دیتے ہیں (التغابن : ۱۶) فتنہ کے میں یہ معنے کیا کرتا ہوں کہ تمہارا مال اور تمہاری اولاد تمہیں کندن بنا دیتی ہے خدا تعالیٰ کا کوئی فعل عبث اور بے ہودہ نہیں ہوتا بلکہ انسان ہی کی بہتری اور بہبودی کے واسطے ہوتاہے اس لئے اولاد اور مال بھی انسان کو کندن بنا دیتا ہے ان کی خبر گیری، احتیاط، سلوک وغیرہ سے اس کی اخلاقی قوتوں کا نشوونما ہوتا ہے لیکن جس شخص کو ایسا موقع حاصل نہیں وہ ان اخلاق فاضلہ کو کیسے سیکھ سکتا ہے۔( الحکم جلد۷ نمبر ۲۳ مورخہ ۲۴؍جون ۱۹۰۳ء صفحہ۵)