ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 130
سوم۔درود شریف پڑھتے وقت ان باتوں کا لحاظ رکھنا چاہیے۔(الف)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان احسانات کو یاد کرو کہ آپ نے ہماری بہتری کے واسطے کیا کیا تکالیف اٹھائیں اور پھر کس طرح پر دنیا کے اغلال سے ہم کو چھڑایا۔(ب) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدارج کی ترقیوں اور کامیابیوں کو مدِّ نظر رکھو۔صلوٰۃ اللّٰہ وصلوٰۃ الملا ئکۃ علی النبی۔یہ ایک مسلّم امر ہے کہ نیکی کے بتانے والا اس شخص کے ثواب کا بھی وارث ہوتا ہے جس کی تعلیم کی وجہ سے وہ شخص نیکی کرتا ہے۔الدَّالُ عَلَی الْخَیْرِ کَفَاعِلِہ(سنن ترمذی کتاب العلم باب الدال علی الخیر کفاعلہ) تو پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کیسا ثواب ہر وقت ملتا ہے کیونکہ کروڑوں انسان ہر وقت آپ کے بتانے کی وجہ سے نماز، روزہ، زکوٰۃوغیرہ نیکی کے کام کرتے رہتے ہیں ان تمام نیک اعمال کاثواب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال میں بھی بڑھتا جاوے گا جو آپ کے مدارج عالیہ میں ترقی کا باعث ہے۔(ج) دعا کا مسئلہ بھی مسلّم ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے کروڑوں انسان ترقی مدارج کے واسطے دعا کرتے رہتے ہیں پھر کیا ان دعاؤں کا کچھ نتیجہ نہیں؟ ہے اور ضرور ہے۔آپ پر صلوٰۃ کا ثبوت ازروئے کامیابی بھی آپ پر ہر وقت صلوٰۃ ہونے کا ثبوت ملتا ہے علاوہ بریں کوئی مذہب ایسا نہیں جس کے اصول بھی قائم رہے ہوں برخلاف اس کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عملی رنگ کے واسطے قرآن شریف مکہ معظمہ پھر ہر صدی پر مجدد موجود رہتے ہیں۔قرآن شریف جیسی پاک کتاب کے ابتدا اور انتہا میں بھی اَعُوْذُ پڑھنے کا حکم ہے تو باقی لوگوں کی بنائی ہوئی کتابوں کو تو بطریق اولیٰ پہلے استخارہ کرکے پڑھناچاہیے۔کبرکا پتہ کیونکر لگتا ہے اوّل۔لڑکیوں کے لینے یا دینے میں۔دوم۔بحث مباحثہ کے وقت یا اگر مخالفت میں کوئی شخص اسے سخت یا سست کہے۔