ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 128 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 128

انذاری پیشگوئیوں پر نظر یاد رکھو انذاری پیشگوئیوں میں لازم نہیں ہوتا کہ بالکل بعینہٖ پوری کی جاوے کیونکہ خدا کا رحم اس کے غضب پر سبقت رکھتا ہے اور اس کا غصہ دھیما ہوتا ہے۔ْ (یونس :۴۷) اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے یعنی پیشگوئیوں کے بعض حصے ضروری پورے دکھائے جائیں گے۔وہ لوگ سخت غلطی کرتے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ انذاری پیشگوئیاں مشروط نہیں ہوتی ہیں۔(الحکم جلد۷ نمبر۱۹ مورخہ ۲۴؍ مئی ۱۹۰۳ء صفحہ۸) اَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃِ ھَارُوْنَ اَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃِ ھَارُوْنَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علیؓ کے متعلق فرمایا ہے۔پس رسول اکرم کا فرمان کیسا سچا تھا ! وہ وزارت ہی کے قابل اور مناسب تھے چنانچہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی وزیر تھے حضرت ابو بکرؓ کے بھی وزیر اور حضرت عمرؓ کے بھی وزیر تھے اور حضرت عثمانؓ کے بھی وزیر بنے رہے اور چونکہ وزارت ہی کے لائق تھے اس واسطے جب تک وزیر رہے کام اچھی طرح چلتا رہا اور جب خلیفہ بنائے گئے تو کام بگڑ گیا جس طرح ہارون علیہ السلام کی تھوڑی دیر کی خلافت میں بھی قوم بگڑ گئی تھی۔پس جب خدا نے فیصلہ کر دیا تو شیعہ کیوں گلہ کرتے ہیں۔رکوع جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قرآن شریف نماز میں پڑھتے پڑھتے رکوع کر دیتے تو اسی جگہ نشان رکوع کا کیا جاتا تھا اور طبیعت کی روانی پر موقوف تھا۔اشیاء عالم کی عمر دنیا میں اشیاء اسی وقت تک رہتی ہیں جب تک وہ کسی نہ کسی پہلو سے دنیا کے واسطے مفید ہوتی ہیں۔جب کوئی ایسا وقت آجاتا ہے کہ وہ کسی طرح بھی مفید نہیں رہتی تو دنیا سے اٹھائی جاتی ہے۔یہی حال ہے انسان کا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے سے پہلے بھی دنیا کا اکثر یہی حال ہو گیا تھا۔قرآن شریف فرماتا ہے۔ (الرعد : ۱۸)۔