ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 123
سوم۔قرآن شریف ہی سے تمسک کرو اور اسی سے جواب ڈھونڈو۔چہارم۔یہ دعائیں پڑھو۔(۱) (الانبیاء :۸۸)۔(۲) (البقرۃ:۳۳) (۳) (طٰـــہٰ : ۱۱۵)۔(۴) (طٰـــہٰ ٰ : ۲۶)۔(الحکم جلد۷ نمبر۱۶ مورخہ۳۰؍ اپریل ۱۹۰۳ ء صفحہ۵) شرح صدر فرمایا۔(۱)شرح صدر والے کو اللہ پر ایمان ہوتا ہے۔(۲)وہ اللہ تعالیٰ کی طرف جھکتا ہے۔(۳)ذکر کرتا ہے۔(۴)بہادر ہو جاتا ہے۔(۵)آنکھ فضول کی طرف (۶)کان (۷) اورزبان لغو کی طرف نہیں جاتی۔(۸)اس کی دوستی اور دشمنی اللہ کے واسطے ہوتی ہے۔(۹) اسے اپنے واسطے کوئی فکر نہیں ہوتا۔(۱۰)وہ مخلوق پر احسان کرتا ہے۔(۱۱)دانا ہوتا ہے کثرت غذا اور کثرت نیند سے مبرّا ہوتا ہے۔حضرت موسٰیؑ اور آنحضرت ؐاور شرح صدر حضرت موسیٰ علیہ السلام تو (طٰہٰ : ۲۶) کی دعا خود کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے شرح صدر چاہتے ہیں مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں ارشاد ہوتا (الم نشرح :۲) غور کرو اس سے آپ کی کیسی فضیلت اور بزرگی ثابت ہوتی ہے۔ایمان کامل کے نتائج انسان کا جب ایمان کامل ہو جاتا ہے تو اس کے اعضا میں بھی طاقت آجاتی ہے جو غیر مشروع چیزیں ہوتی ہیں ان کو دل سے برُا جان لیتا ہے اس کی فطرت میں بدیوں سے مقابلہ کرنے کی قوت آجاتی ہے۔قرآن میںانبیاء کے ذکر کا مقصد اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں بڑے بڑے لوگوں کا حال اس واسطے درج فرماتا ہے کہ تا انسان ان کے حالات پڑھ سن کر خود بھی ان کے نمونے پر