ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 119 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 119

چہارم۔ (النور:۳۶)اللہ تعالیٰ آسمانوں زمینوں کا نور ہے۔اور اس کا نور ایسا ہے جیسے چمنی میں چراغ اور وہ رکھا ہے طاق میں اور روشن ستارہ کی طرح چمکتا ہے۔کیوں مولو ی صاحب! اللہ تعالیٰ چراغ کی مثال ہے؟ تمام قرآن شریف ایسی مثالوں سے بھرا ہوا ہے۔بلکہ غور کرو تو آپ کو معلوم ہوگا صلوٰۃ، صوم ،زکوۃ، حج، اسلام،ایمان ،فسق،نفاق تما م الفاظ مجاز ہیںکیونکہ عام مولوی صلوٰۃ کے معنے تحریک صلوین، چوتڑ ہلانا کرتے ہیں اور لغت میں لکڑی کو سیدھا کرنے کے لیے گرم کر کے سیدھا کرنا، اس کے معنے ہیں۔صوم کے معنے کسی چیز سے رکنا، زکوٰۃ کے معنے بڑھنا اور حج کے معنے ہیں قصد کرنا۔اب بتائو کیا یہا ں حقیقی معنے اگر لئے جاویں تو شرع شریف اجازت دے گی؟ ہرگز نہیں۔کیا چوتڑ ہلا دیئے اور نماز ہو گئی؟ یا لکڑی کو۱؎ سیدھا کردیا تو نما زہو گئی؟ یا ہم کسی چیز سے ر ک گئے تو صائم ہو گئے؟ علیٰ ہذا القیاس۔اسی واسطے علماء میں اختلاف ہوا ہے بعض کہتے ہیںقرآن میں حقیقی لغوی معنے ہیں ہی نہیں اور بعض نے کہاقرآن میں مجاز نہیں اوربعض نے کہا ہے کہ حقیقت ومجاز دونوں قرآن میں ہیں۔غرض یہ بحث بہت طویل ہے۔غور کرو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے  (البقرۃ:۶) اور اس کے معنے ہیں فلاح پانے والا۔کیا یہاں لغوی معنے مراد ہیں۔عزیز من! مجاز میں کذب نہیں ہوا کرتا۔اس میں اور کذب میں فرق ہے معلوم ہوتا ہے آپ نے مختصر معانی بھی نہیں دیکھے بلکہ مجاز اور کذب میں تو ضد ہے۔یہ تمام میرا کلام آپ کے مذاق پر ہے وَاِلَّا میں خود وہی مذہب پسند کرتا ہوں جو منکر مجاز ہیں۔قرآن مجید تمام حقائق نفس الامریہ ضروریہ پرمشتمل ہے اور چونکہ یہ کلام ہے اس قدوس کا جوربّ العالمین ہے ارحم الراحمین اس لیے تمام کمال صدق پر مبنی ہے۔(النساء :۱۲۲)(النساء: ۸۸)۔