ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 11
فرمایا اللہ کریم نے(الشوریٰ : ۵۳) اور جبرئیل کو یا مسیح کو اس لئے روح فرمایا کہ ایک کلام الٰہی کے لانے والا اور دوسرا کلام الٰہی کے پہنچانے والا ہے۔اور اگر پندرھویں سیپارہ میں(بنی اسرائیل :۸۶) پر گہری نگاہ کرو اور غور سے کام لو تو صاف نظر آوے گاکہ روح وہاں کلام ہی کے معنے ہیںکیونکہ کے ما قبل دعویٰ ہوا ہے۔ (بنی اسرائیل: ۸۳) پھر بیان ہوا ہے کہ یہود دریافت کرتے ہیں کہ یہ روح کیا معنے، قرآن کہا ں سے آیا ہے۔تو جواب دیا ہے۔اب ہر دو دعوے بلکہ دعوے اخیر کی ( کہ قرآن کریم کلام الٰہی ہے۔موضوع ،مفتری اور مصنوع نہیں) دلیل یہ دی کہ قدرتی اور مصنوعی اشیاء میںیہی تو فرق ہوتا ہے کہ مصنوع قدرتی نہیں ہوتی اور نہ قدرتی مصنوعی ہوتی ہے۔غور کرواس دلیل پر جو بعد کے واقع ہوئی ہے۔(بنی اسرائیل :۸۹) پس ترجمہ الفاظ میں مترجم کو عرف موجودہ کا لحاظ ضروری ہے تو کہ عرفی معائب سے بچے۔دوسرا امر جس پر توجہ ضرور ہے وہ قصص ہیں جن کا ذکر قرآن کریم میں آیا ہے۔ان قصص کی تفصیل ضروری تو نہیں مگر بعض مقامات بدوں کسی تفصیل کے اس زمانہ میں سمجھنی مشکل ہیں۔مثلاً ذوالقرنین کا قصہ ،بعض ہمارے بھولے بھالے مفسروں نے یونانی سکندر کو جو ایک بت پرست شراب خور پٹرا مون کا بیٹا بننے والا تھا ذوالقرنین بنا دیا اور اگر سکندر نامہ کو دیکھیں تو شرم آجاتی ہے کہ کیا قرآن کریم اس نابکار کا اس طرح تذکرہ کرتا ہے۔اور پھر پتہ نہیں لگتا کہ یہود نے یہ سوال عن ذوالقرنین کس بنا پر کیا۔حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی پاک تعلیم ہے اس کا کیا دخل تھا اور خارج از بحث تذکرہ کرنے سے جناب ہادی کامل