ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 111 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 111

ہے۔اس لئے ہم اس امر کی توضیح بغرض تصحیح کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔الحکم میں حضرت حکیم الامت کے ارشادات کے تحت میں کئی مرتبہ قرآن شریف کے حل مطالب کے بہت سے قاعدے جو انہوں نے تجربہ کئے ہیں درج کئے ہیں جن سب کے اعادہ اور تکرار کی یہاں ضرورت نہیں۔ہم کو صرف اس جگہ اسی شبہ کے متعلق کچھ لکھنا ہے۔قرآن شریف کے مطالب و مقاصد پر اطلاع پانا تقویٰ کو چاہتا ہے۔(البقرۃ : ۲۸۳) قرآن شریف نے خود فرمایا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے اغراض میں جو (الجمعۃ :۳) فرمایا ہے تو یہ بھی تزکیہ کے بعد یعنی اول آپ کا کام(الجمعۃ :۳)دوسرا کام (الجمعۃ :۳) تیسرا ۔اس سے معلوم ہوا کہ تقویٰ اور تزکیہ نفس پہلی شرط ہے پھر قرآن شریف کے حل معانی کے لئے شرط ہے مجاہدہ۔(العنکبوت :۷۰) جو لوگ ہم میں ہو کر مجاہدہ کرتے ہیں ہم ان پر اپنی راہیں کھو ل دیتے ہیں۔غرض قرآن شریف کے سیکھنے کے لئے تزکیہ، تقوی اللہ اور مجاہدہ ضروری ہے۔اب یہ بات کہ قرآن شریف کی آیت لکھ کر مٹھی میں رکھ کر سو رہنے سے اس کا مطلب حل ہو جاتا ہے کیا ان امور سے منافی اور متناقض ہے اور کوئی ایسا آدمی جو متقی نہ ہو محض اسی صورت سے قرآن شریف سیکھ سکتا ہے؟ ایسا سوال کرنے سے پہلے یہ دیکھ لینا ضروری ہے کہ کیا کوئی فاسق ، فاجر قرآن شریف کے مطالب کے سمجھنے کے لئے کوشش کرے گا؟ قرآن شریف کے سمجھنے کا شوق اور محبت تو اسی کے دل میں پیدا ہوگی جو متقی ہو اور مجاہدہ کرنے والا ہو۔سگ را بہ مسجد چہ کار۔فاسق کو قرآن شریف سے کیا تعلق اور محبت؟ پس جوشخص متقی اور پاکباز ہوگا وہی سعی کرے گا کہ اس پر قرآن شریف کے اہم امور کھل جائیں اور یہ طریق کہ کاغذ پر آیت لکھ کر مٹھی میں لے کر سو جائیں یہ کوئی شعبدہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک فطرتی اصل ہے جو انسان کے اندر موجود ہے اس سے صرف توجہ کا اس طرف مبذول کرنا مقصود ہے جو