ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 105
تثلیث کی فلاسفی دریافت کر کے ہمیں بتلا سکتے ہیں۔کالجیئرصاحب نے اقرار کیا اور دوسرے دن پھرانہوں نے حکیم صاحب سے آکر کہا کہ میں نے فلاسفرصاحب سے تثلیث کی فلاسفی دریافت کی تھی مگرانہوں نے جواب دیا کہ ایشیائی دماغ اس قابل ہرگز نہیں ہیں اورنہ ان میں یہ مادہ ہے کہ وہ اس کی فلاسفی کوسمجھ سکیں۔آجکل کے گریجویٹ اورکالجیئرجومغربی تعلیم اورتہذیب کے دلدادہ ہیں اہل یورپ کے فلاسفروں اورہیئت دانوں کا کچھ ان پر ایسا رعب پڑا ہوا ہے کہ حضرت شیخ سعدی علیہ الرحمۃ کا یہ شعر بالکل صادق آتا ہے اگر شہ روز را گوید شب است این بباید گفت اینک ماہ و پروین اسی طرح اہل یورپ کی زبان سے جو مسئلہ نکلے یا جو فلسفہ وہ بیان کریں اس کی تردید پر اپنے دماغوں کوزور دینا یہ لوگ حرام مطلق خیال کرتے ہیں۔اور میاں مٹھو کی طرح جووہ پڑھائیں اس کی رٹ رکھناان کافرض منصبی ہو گیا ہے اور اس نقش قدم چلنے نے ان لوگوں کے دلوں پر سے حقیقی روحانی کی آب وتاب کو بالکل زائل کر دیا ہے اور اب ہمارے نزدیک ان کی مثال ایک فونوگراف کی ہے کہ جوکچھ اس میں بند کیا جاوے وہ وہی بولتا ہے اوراپنی طرف سے کچھ نہیں کہہ سکتا۔اسی طرح ان کالجیئر صاحب نے آکر فلاسفر کے وہ الفاظ حکیم صاحب کے روبرو نقل کر دئیے کہ انہوں نے تثلیث کی فلاسفی پر یہ جواب دیا ہے۔حکیم صاحب نعوذباللہ اس لچر جواب کو کب وقعت دے سکتے تھے اوروہ اس غلط بات کے کہ روشنی مغرب سے آئی ہے کب قائل ہو سکتے تھے جس کو خود قانون قدرت (یعنی نیچر)ہی دھکے دے دے کر حقیقی فلسفہ کے میدان سے باہرنکال رہا ہے۔تجربہ روزانہ شہادت دے رہا ہے کہ روشنی کا مطلع اورمنبع مشرق ہی ہے چنانچہ حکیم صاحب نے پھر یہ سوال کیا کہ اب ان سے یہ پوچھا جاوے کہ اگرایشیائی دماغ تثلیث کی فلاسفی کے سمجھنے کے قابل نہیں ہیں توپھرخود حضرت مسیح اورآپ کے برگزیدہ حواریوں نے کب اس کی فلاسفی کو سمجھا ہو گا اورکب ان کو ایمان حاصل ہوا ہو گا۔کالجیئرصاحب نے جب یہ سوال فلاسفر صاحب کے روبرو