ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 106
پیش کیا توپھر ان سے کوئی جواب بن نہ آیا اورصرف ہنس کر ٹال دیا۔خیر یہ قصہ تودرکنار گذشتہ ایام میں ایک امریکہ سے آئے ہوئے پادری صاحب نے عیسائیت کے تجارب پر کئی لیکچر لاہور میں دیئے ہیں اور سنا گیا ہے کہ بہت سے ہندوستانی کالجیئروں اورگریجوایٹوں نے ان کے لیکچروں کی داد دی ہے۔بلکہ اٹھ کر اٹھ کر ان کے شکریے ادا کیے ہیں۔ان میں سے بہت سے ایسے بھی تھے جو کہ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں۔ہمیں تعجب ہے کہ انہوں نے کس امر پر شکریہ ادا کئے اور کس بات کی داد دی۔کیا اب ان کو یہ بات سمجھ میں آگئی ہے کہ خداباوجود ایک ہونے کے پھر ۳ ہیں اورزید کے سر میں درد ہو توبکر کے اپنے سر پر پتھر مارنے سے زید کے سر کا درد جاتا رہے گا۔یااب عیسویت کی یہ تعلیم کہ اگر تیرے گال پر کوئی ایک طمانچہ مارے تو تو دوسری آگے کر دے۔ان کو انسانی فطرت کے مطابق ثابت ہو گئی ہے؟ اور اب ان کے دل اس پر عمل کرنے کے لیے بالکل کاربند ہو گئے ہیں؟ اور اب وہ اپنی تحریروں تقریروں خانگی اور قومی اورسوشل موقعوں پراس کی نظیر خود بن جاویں گے؟ یا ان کی سمجھ میں یہ آگیا ہے کہ خدا باوجود ایک غیرمحدود ہونے کے ایک عورت کے پیٹ میںداخل ہوا اور ایک خون کی بوٹی بنا۔پھر ہڈی پھر لوتھ پھر بچہ اورخون حیض سے پرورش پاتا رہا اورطفولیت میں لڑکوں کے ساتھ کھیلتا رہا اورپھر اس کی قدرت وغیرہ سلب ہو گئی اور چند ایک اس کے اپنے بنائے ہوئے سپاہیوں نے اسے پکڑ کر سولی پرچڑھا دیا اور اس کی کچھ پیش نہ گئی؟ یا انہوں نے اپنے تحصیل کردہ علوم سائنس فلسفہ طبیعات وغیرہ کے برخلاف اب اس امر کو سمجھ لیا ہے کہ مسیح اس جسم کے ساتھ آسمان پر جا بیٹھا ہے اوراتنے ہزاربرسوں سے وہیں ہے اورابھی تک اتنی جرأت نہیں ہوئی کہ نیچے قدم اتار سکے۔باوجود اس کے کہ ایک شخص میرزا غلام احمد صاحب قادیانی اس کی گدی پر آ کر جم گئے ہیں مگر اس کو اس کی غیرت نہیں۔اگران سب باتوں میں سے کچھ بھی نہیں ہوا تو کیا وہ ہمیں کھول کر بتلا سکتے ہیں کہ انہوں نے کس امر کی داد دی ہے اور کس بات کاشکریہ ادا کیا ہے؟ وہ کون سے باریک درباریک علوم اور اسرار ان پر پادری صاحب کے ذریعہ عیسوی مذہب کے کھل گئے ہیں جس سے پادری صاحب کا لیکچر شکریہ اور داد کا مستحق ہو گیا ہے؟ اگر وہ کھول کر