ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 101
ہیں۔ہاں دوسرے مذاہب نے ان کا کوئی ثبوت نہیں دیا اور اسلام نے ان کو ثابت کر کے دکھایا ہے اس لئے صاف ظاہر ہے کہ نہ تو اسلام نے اقتباس کیا بلکہ خدا تعالیٰ نے وہ صداقتیں براہ راست عطا کی ہیں اور نہ اس میں کمی ہے پس جو صداقت اور مذاہب میں فرداً فرداً موجود ہے وہ اسلام میں باجتماع موجود ہے۔پس بلحاظ ہر ایک مذہب کے علیحدہ علیحدہ اسلام میں اجتماع کی بھی فضیلت ہے۔اخلاق فاضلہ کے امتحان کا موقع یہ بات بالکل سچ کہ سچے اخلاق فاضلہ کا امتحان غصہ اور بیماری کی حالت میں ہوتا ہے اس وقت سب حجاب اٹھ جاتے ہیں اور اصل حقیقت کھل جاتی ہے۔(الحکم جلد۶نمبر۱۷۔۱۰؍مئی ۱۹۰۲ء صفحہ ۴) اسلام کی تلقین شام کے وقت ایک ہندو مسلمان ہوا۔حضرت اقدس نے فرمایاکہ مولوی صاحب (حکیم الامت) اسے مشرف باسلام کریں چنانچہ مولوی صاحب نے مندرجہ ذیل الفاظ میں اسلام کی تلقین کی۔اسلام کیا چیز ہے تین باتوں کا نام ہے اول جس نے پیدا کیا اور جس کے قبضہ قدر ت میں سب کچھ ہے اس کو ایک مانا جاوے اس کے سوا نہ کسی کو سجدہ کیا جاوے نہ اس کے نام کے سوا کسی کا روزہ ر کھا جاوے اور نہ اس کے نام کے سوا کسی جانور کوذبح کیا جاوے کیونکہ جانوں کا مالک وہی ہے اور نہ اس کے سوا کسی کا روزہ رکھا جاوے اور نہ اس کے سوا کسی کا طواف کیا جاوے اور کوئی خوف اور امید اس کے سوا کسی کا نہ کیا جاوے یہ تو لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُکے معنی ہیں۔سارے دکھ سارے سکھ سارے آرام اور ضرورتوں کا پورا کرنا اسی کے اختیار میں ہے اسی کے حضور عرض کرنا چاہئے۔ان باتوں کو جب سچے دل سے مان لیں تو اس کا نام اسلام ہے۔اس کے لئے کسی ظاہری رسم اصطباغ (پوہل)کی ضرورت نہیں۔دوسرا زینہ یہ ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کا نبی مانا جاوے وہ اس لئے دنیا