ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 100
خیالات پر اڑ گئے۔کہاں مشت خاک اور کہاں احکم الحاکمین کا کلام پاک۔آپ کی سچی اور دلی محبت پر مجھے یقین ہے کہ آپ ہر روز ایک حصّہ ترجمہ قرآن شریف کا پڑھتے ہو ں گے اور خوب حظ پاتے ہو ںگے۔پیارے دین! تذکر کے لئے قرآن شریف نہایت ہی سہل۔یسرنا القرآن کے سامنے کسی زید و بکر کی بات پر کب دھیان ہو سکتا ہے ؟ مسجد میں تواضع مشروع ہے۔آئے کو جگہ دینا،اس کی طرف رخ کر کے بیٹھنا، خندہ پیشانی سے پیش آنا،عجز ،اٰمین، با اخلاق کلام کرنا بشرطیکہ اس میں تصنع نہ ہو اور استقبال کے لئے اٹھنا نہایت عمدہ اور پسندیدہ ہے اور اعجام کیسے اوٹھا بیٹھی لغو۔تراویح تہجد ایک ہی چیز ہے۔رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم ، گیارہ رکعت سے کبھی زیادہ نہیں پڑھی۔خاکسار نور دین ( الحکم جلد۶نمبر ۱۰ مورخہ ۱۷؍ مارچ ۱۹۰۲ء صفحہ۲ ) فضیلت اسلام حضرت حکیم الامت مولانا مولوی نورالدین صاحب سلّمہ ربّہ ایک مجلس میں ایک نوجوان سے فضیلت اسلام پر ذکر فرمارہے تھے کہ فضل زیادت کو کہتے ہیں۔اب یہ امر صاف ہے کہ اگر کوئی مذہبی صداقت ایسی ہو کہ دوسرے مذہب میں موجود ہو اور اسلام میں نہ ہو تو وہ مذہب بلحاظ اس صداقت کے اسلام پر فضیلت رکھ سکتا ہے مگر بحمد اللہ اسلام میں ایک فضیلت خاص ہے جو دوسرے مذاہب میں نہیں اور وہ یہ ہے کہ دوسرے مذاہب نے بعض صداقتوں کا اپنے اندر موجود ہونے کا صرف دعویٰ کیا ہے لیکن کوئی دلیل بیان صداقت میں اس کے ساتھ نہیں دی اور یہ کیسی سچی اور صاف بات ہے کہ نرا دعویٰ بدوں دلیل کبھی بھی تسلیم نہیں کیا جاسکتا اس لئے وہ صداقتیں جو دوسرے مذہب پیش کرتے ہیں دعویٰ ہی کے رنگ ہونے کی وجہ سے صداقت (ٹروتھ) نہیں کہلا سکتی ہیں۔لیکن اسلام نے کوئی صداقت ایسی پیش نہیں کی اور کوئی دعویٰ نہیں کیا جس کے دلائل ساتھ نہ دیئے ہوں یہ کس قدر عظیم الشان فضیلت اسلام کی ہے۔دنیا کے تمام مذاہب میں جس قدر صداقتیں واقعی طور پر ہیں وہ سب بہ ہیئت مجموعی اسلام میں موجود ہیں۔ہاں دوسرے مذاہب نے ان کا کوئی ثبوت نہیں دیا اور اسلام نے ان کو ثابت کر کے دکھایا ہے اس لئے صاف ظاہر ہے کہ نہ تو اسلام نے اقتباس کیا بلکہ خدا تعالیٰ نے وہ صداقتیں براہ راست عطا کی ہیں اور نہ اس میں کمی ہے پس جو صداقت اور مذاہب میں فرداً فرداً موجود