واقفین نو — Page 9
خوف کھاتا ہے۔تاکہ اس سے حفاظت کر سکیں۔خوف کی ابتدائین باتوں سے ہوتی ہے۔را تیز آواز : ہو اچانک پیدا ہو۔مثلاً پیچھے کے پاس زور سے تالی بجانا کہ وہ چونک اٹھے۔کوئی کسی SNPILLING آواز۔تو در سے دروازہ بند ہو جاتا وغیرہ۔بچے کو چونکا دیا اُسے خوفزدہ کر دینے کے مترادف ہے۔اب گرنے کا احساس : کرنے کا احساس بچوں میں SENSE OF INSECURITY عدم تحفظ کا احساس پیدا کر دیتا ہے اور یہ چیز بھی خوف کی کیفیت پیدا کر دیتی ہے۔اس لئے بچے کو ایک ہاتھ سے اُٹھا نا مناسب نہیں۔دیکھا گیا ہے کہ بچہ رو رہا ہے ماں نے پھیلا کر ایک بازو سے پکڑ کر اٹھایا تو بچہ اور زور سے رونا شروع کر دیتا ہے۔اس لئے اس طرح اٹھایا جائے کہ وہ محسوس کرے کہ وہ محفوظ ہے۔رج، تنہائی اور تاریکی یہ جب بچہ خود کو اکیلا محسوس کرے گا تو اُس میں خوف کی کیفیت پیدا ہو جائے گی۔اسی طرح تاریکی میں بھی وہ اس لیے خوف زدہ ہو گا کہ اسے ماں یا کوئی بھی نظر نہیں آئے گا۔اس لئے ماڈرن طریقے پر بچے کو اکیلے کمرے میں نہیں سلانا چاہیئے تا کہ جاگنے پر ماں کو نہ پا کر خوفزدہ نہ ہو جائے۔دن کو بھی کام کرتے وقت ماں بچے کی نظروں کے سامنے رہے تاکہ اُسے احساس تحفظ ہے۔اس طرح بچہ ماں کی نظروں کے سامنے بھی رہے۔گہرا مشاہدہ : بچوں کی یادداشت حیرت انگیز ہوتی ہے۔بقول ارسطو بچه کا ذہن صاف سلیٹ کی طرح ہوتا ہے۔جو لکھ دیا گیا انمٹ ہو گیا۔لیکن میں طرح ملیٹ کو علم نہیں کہ اس پر کیا لکھ گیا۔مگر کھا گیا۔اسی طرح سختہ نہیں جانتا کہ اس کے ذہین پر کیا کیا لکھا جا چکا ہے۔کون کون سے نقوش قائم ہو چکے ہیں۔جوں جوں وہ مجھدار ہوتا