واقفین نو — Page 8
خصوصیت اس عمر سے ہی اپنا لے گا۔پاکیزگی : پاکیزگی کا احساس قائم رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ بچے میں وقت پیشاب یا پاخانہ کرے اُسے فوری طور پر ڈھلایا جائے۔گاؤں وغیرہ میں مائیں اکثر کپڑے سے پونچھ ڈالنے پر ہی اکتفا کرتی ہیں۔اس سے جہاں پاکیزگی کا لحاظ متاثر ہو گا وہاں خارش اور بدبو پیدا ہوگی۔خارش کی وجہ سے بچہ یا تو جھنجھلائے گا روئے گا اگر کچھ بڑا ہے تو خارش کرنے کی کوشش کرے گا۔کھجانا بعض اوقات بُرے نتائج پیدا کر سکتا ہے۔مثلاً ٹیڑے ہونے کے بعد جنسی بے راہروی۔نیز ڈائپر اور PAMPERS پلاسک کے جانگیے صرف اشد ضرورت کے وقت ہی استعمال کریں۔اس کی عادت بچہ میں پاکیزگی کا احساس پیدا نہیں ہونے دے گی۔نیز PAMPERS کے استعمال سے چلنا سیکھنے والے بچوں کی چال بگڑ جاتی ہے بلخ کی سی چال ہو جاتی ہے۔بچے پاؤں چوڑے کر کے چلنے لگتے ہیں۔ضد سے محفوظ رکھنے کے لئے :۔دودھ کے مقررہ اوقات ہر بچہ میں مختلف ہو سکتے ہیں۔انفرادی فرق کو ملحوظ رکھتے ہوئے بیشہ کو رونے سے قبل ہی خوراک دے دینی چاہیے۔ورنہ اس کو رد کر ہی دودھ مانگنے کی عادت پیدا ہو جائے گی درونا خققہ کی علامت بھی ہوتا ہے۔غصہ میں دودھ پینا نظام انہضام میں خلل ڈال سکتا ہے) رو کر مانگنے سے ضد کی عادت پیدا ہونے کا احتمال ہے۔خود اعتمادی : بچہ پہلا قدم اٹھائے تو گھبراہٹ کا اظہار نہ کریں۔اُسے گوشش کرنے دیں۔گرنے پر بھی تشویش کا اظہار نہ کریں۔ہائے کہ کہ اُسے خوفزدہ نہ کریں۔بہادری در خوف سے محفوظ بچے بھی بہادر بن سکتے ہیں (بہادر لوگوں کی کہانیاں تو بعد میں پڑھ سکیں گے ) خوف سے محفوظ رکھنے کے لئے والدین کو علم ہونا چاہیئے کہ بچے کن چیزوں سے