واقفین نو — Page 19
قناعت بھی مندرجہ بالا نکتہ سمجھنے سے ہی پیدا کی جاسکتی ہے۔بچہ کو جو دینا ہے وہ دے کر سمجھا دیں کہ میں تمہارا حقہ اتنا ہی ہے۔اس سے زیادہ نہیں ملے گا جب وہ اپنے حقہ پر اکتفا کرنا سیکھ لے گا اس میں آہستہ آہستہ قناعت کرنے کی عادت بھی پیدا ہو جائے گی۔امانت و دیانت کی صنعت بچہ کی صفتنہ سے فی الحال با ہر ہے۔مگر وہ سیکھ سکتا ہے کہ جب کوئی کھلونا یا کوئی چیز جب اسے دی جائے کہ اس سے کھیلو۔کھیلنے کے بعد اس سے مانگ میں اس یقین دہانی پر اسے جب چاہے گا مل جائے گی۔دوبارہ دیں پھر واپس ہیں۔۔۔۔اس طریقہ سے وہ رکھی ہوئی چیز یالی ہوئی چیز واپس دینا سیکھ لے گا۔اطاعت پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اپنی بات بھی حکمت عملی سے منوائی جائے۔ورنہ اس دور میں اطاعت گزار والدین پائے جاتے ہیں بچے نہیں۔ادھر بچے نے کوئی مطالبہ کیا ادھر اسے پورا کر دیا گیا۔اس طرف خاص توجہ کی ضرورت ہے بیچ سے چھوٹے چھوٹے کام کروائیں چاہیے بلا ضرورت ہی ہوں۔مثلاً یہ چیز وہاں رکھ دو۔دو چیز لے آؤ۔اس چیز کو نہ چھیڑو۔اس قسم کی پریکٹس سے اسے کہنا ماننے کی عادت ہوگی۔مانٹی سوری طریقہ تعلیم کی خوبیوں کو اپنا نا ہوگا اور اس کی خامیوں کو دور کرنا ہو گا۔مندرجہ بالا تعلیمی وتربیتی و اخلاقی اور دینی امور پر مینی خصوصیات کو مثبت مانٹی سوری طریقہ تعلیم سے ہم آہنگ کر کے ایک نیا تعلیمی طریقہ یا نصاب بنانا ہوگا۔مانٹی سوری طریقہ تعلیم کی ایک بڑی خامی جو اس کا بنیادی طریقہ تدریس ہے۔وہ یہ ہے کہ بچوں کو بالکل کھلی فضا بغیر کسی دباؤ اور تحکم ( DIRECTION ) کے مہیا کی جاتی ہے تاکہ بچوں کے جوہرکھیں اور خود اعتمادی پیدا ہو لیکن اس طریقہ تدریس کی اور خوبیوں کے ساتھ ساتھ ان میں اطاعت کرنے کا مادہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔وہ اپنی جیلی تقاضوں کے مطابق سکول میں وقت گزارتے ہیں ان کے جیلی تقاضوں کو TAME