واقفین نو

by Other Authors

Page 13 of 21

واقفین نو — Page 13

کر دیا جاتا ہے۔اُسے فطری تعلیم ملنی چاہئیے۔کم وبیشیں فطری ماحول نہیں کرنا چاہیئے تمدنی تکلفات میں نہیں جکڑنا چاہیئے۔ڈا پر ز اور PAMPERS کسی دیئے جاتے ہیں۔تنگ اور نیٹ کپڑے پہنا دیئے جاتے ہیں۔بچہ اظہار تو نہیں کر سکتا مگر اس کے چہے۔سے بے اطمینانی جھلکتی ہے۔موسم کا خیال کئے بغیر سوٹے یا واش اینڈ ویر کپڑے چڑھائیے جاتے ہیں تاکہ بچہ سمارٹ نظر آئے۔بچہ ان پابندیوں میں بے چینی محسوس کرتا ہے تو وہ چڑ چڑا۔بد مزاج اور رونے والا بچہ بن جاتا ہے بچہ کو چڑ چڑے پن اور ضدی پن سے محفوظ رکھنے کے لئے اسے بار بار لو گنا۔منع کرنا۔مضر اشیاء ہاتھ سے چھیننا نہیں چاہیے۔یہ عمر اس لحاظ سے سخت آزادانش کا دور ہوتا ہے۔بچہ کچھ کرنا چاہتا ہے۔مگر ہر وقت ماں باپ اس کو روکتے تو کتے ہیں کہ یہ نہ کرو۔یہ نہ پکڑو۔ادھر مت جاؤ۔اوپر مت چڑھو گر جاؤ گے۔رینگنے اور قدم قدم چلنے کا دور ماں باپ کے لئے بہت مسائل پیدا کرتا ہے۔اس کے چلنے سے نوش بھی ہوتے ہیں اور بیزار بھی۔یہ بات سچ نوٹ کرتا ہے لیکن تضاد کو سمجھ نہیں پاتا۔ہو ہشیار بچے کے لئے خطر ناک ہوں یا چیزوں کے نقصان کا اندیشہ ہو ان کو محفوظ مقام پر رکھ دیا جائے تاکہ نہ تو بار بار منع کرنے اور روکنے سے بچہ کی طبیعت میں چڑ چڑا پن آئے گا۔اور نہ ہی ماں کے اعصاب پر تناؤ کی کیفیت طاری ہوگی۔اس دور میں بچہ بولنا بھی شروع کر دیتا ہے۔اب آپ جو چاہے بولنا سکھائیے اس کی VOCABULARY ذخیرہ الفاظ میں ایسے الفاظ ) FEED) ڈالے جن کی ہمارے واقفین کو کو ضرورت ہے۔اخلاقی۔مذہبی شرعی اصطلائیں۔مثلاً اللہ تعالی رسول الله ، نماز، قرآن کی اصطلاحیں۔یوں تو اس عمر میں سمجھ گالی بھی دے تو بہت پیارا لگتا ہے۔سب بار بار گالی سننے اور خوش ہوتے۔یا ایسی باتیں جو تا زیبا ہوتی ہیں لیکن بچے کے منہ سے بڑی نہیں لگتیں۔کچھ عرصہ بعد انہیں باتوں اور گالیوں پر ڈانٹ پڑنے