واقفین نو — Page 12
کی کوشش کریں دے دینے پر پیار کریں۔شاباش دیں۔آہستہ آہستہ وہ دوسروں کے ساتھ مل جل کر رہنار SHARE) کرنا سیکھ لے گا۔درنز بچه خیلی طور پر POSSESIYE ہوتا ہے۔وہ کوئی چیز دینا پسند نہیں کرتا۔بلکہ دوکر بچوں کے ہاتھ سے چھینے کی کوشش کرتا ہے۔بچے کے ہاتھ سے آپ خود بھی چیز چھینے کی کوشش نہ کریں۔اگر کوئی چھری قینچی وغیرہ قسم کی چیز بھی پکڑے تو حکمت عملی سے حاصل کریں۔تیسرا دور ایک سال کی عمر سے دو سال کی عمر تک سیکھانے کی عمر کا تعین حتمی نہیں ہوتا۔اصل میں بچہ کی 0 تو پر ہوتا ہے یا دوسر منظوں میں فطری رحجانات پر ہوتا ہے۔کچھ بچے آسانی سے سیکھ لیتے ہیں۔کچھ مشکل سے سیکھتے ہیں۔اور کچھ نسبتا دیر سے سیکھ لیتے ہیں۔یہ بات ذہن میں رکھنی ہوگی کہ ہر سچہ ایک عمر کا یکساں طور پر نہیں سکھے گا۔اس فرق سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ہر بچہ کی فطرت اور صلاحیت ایک دوسر سے مختلف ہوتی ہے جو اندازے پیش کئے گئے ہیں یہ اوسط درجہ کے بچے کے۔ے لئے ہیں۔اس میں کمی بیشی عمر کا فرق - اکتاب کی مقدار مختلف ہوگی نیز ایک سال کی عمر ایک حتمی حد نہیں۔کوئی بچہ 1 ماد چلنے لگتا ہے کوئی ڈیڑھ سال کا ہو کر چلنے لگتا ہے۔جب بچہ چلنا شروع کرے تو اسے واکر میں بالکل قید نہ کر دیا جائے۔بعض مائیں بچوں کو میلا ہونے سے بچانے کے لئے اُسے پہلے ہی واکر میں بٹھا دیتی ہیں۔یہ قدرتی اور فطری طریقہ نہیں۔کمرے قالین پر ، فرش پر گھاس پر تھوڑی دیر کے لئے چھوڑ دیں تاکہ وہ اپنی مرضی سے حرکت (MOYE) کر سکے۔ہاں خیال ضرور رکھیں کہ وہ کوئی چیز اٹھا کر منہ میں نہ ڈال لے رینگ کر چلنے کا ارتقائی دور ضرور آنے دینا چاہئیے۔ژاں شراک روسو کا کہنا ہے کہ انسان آزاد پیدا ہوتا ہے مگر بندھنوں میں قید