واقفین نو — Page 2
پیش لفظ ہمارے پیارے امام حضرت خلیفہ المسیح الرابع ایدہ اللہ تعالی نے وقف نو کی مبارک تحریک 3 اپریل 1987ء کو فرمائی۔اس پر جماعت نے قریبا آٹھ ہزار بچے اس تحریک میں پیش کیئے۔یہ تحریک نئی صدی کی ضروریات پورا کرنے کیلئے اللہ تعالٰی اور اس کے برگزیدہ رسول حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں سرشار تربیت یافتہ اولاد کا خدا کے حضور تحفہ پیش کرتا ہے۔اس ضمن میں جماعت کو مخاطب کرتے ہوئے حضور انور فرماتے ہیں۔دوست یاد رکھیں اگلی صدی ایک بہت بڑی صدی ہے جو ہمارا انتظار کر رہی ہے اس میں بہت بڑے کام ہونے والے ہیں۔اس صدی کے لوگوں نے ہم سے رنگ پکڑنے ہیں اور وہ رنگ لیکر انہوں نے اس سے اگلی صدی کی طرف آگے بڑھنا ہے۔" فرمایا " اس لئے میں نے گذشتہ سال یہ تحریک کی تھی کہ ہم غلبہ اسلام کی صدی میں داخل ہونے کیلئے اپنی منزل سے قریب سے قریب تر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔اگلی صدی میں اللہ اور رسول کے عاشقوں کا ایک قافلہ داخل ہو گا۔۔۔۔۔۔۔یہ ایسے لوگ ہوں جن کے دل عشق الہی اور عشق مصطفی سے بھرے ہوئے ہوں جن کے خون میں یہ عشق و محبت جاری ہو چکی ہو " اس صدی کی آمد پر خدا کے حضور پیش کرنے کے لیے جو تحفہ ہم نے پیش کرتا ہے وہ ایسے بچوں کی کھیپ ہے جن کے دل اللہ اور رسول کے عشق میں سرشار ہوں جو مہذب اور بہتر بچے ہوں۔حضور فرماتے ہیں: یہ تحریک میں اس لیے کر رہا ہوں تاکہ آئندہ صدی میں واقفین بچوں کی ایک عظیم الشان نوج ساری دنیا سے آزاد ہو رہی ہو اور محمد رسول اللہ کے خدا کی غلام بن کر اگلی صدی میں داخل ہو رہی ہو۔اور ہم چھوٹے بڑے بچے خدا کے حضور تحفہ کے طور پر پیش کر رہے ہوں۔" خطبہ جمعہ فرموده ۳ اپریل ۱۹۸۷ء ) مزید فرمایا " بچوں کی یہ جو تازہ کھیپ آنے والی ہے اس میں ہمارے پاس خدا کے فضل سے بہت سا وقت ہے اور اگر اب ہم ان کی پرورش اور تربیت سے غافل رہیں تو خدا کے حضور مجرم ٹھہریں گے اور پھر ہر گز یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اتفاقا یہ واقعات ہو گئے اسلے والدین کو چاہیے کہ ان بچوں کے اوپر سب سے پہلے خودگری نظر رکھیں اور بعض تربیتی امور کی طرف خصوصیت سے توجہ دیں اگر خدانخواستہ وہ سمجھتے ہوں کہ بچہ اپنی افتاده و طبع کے لحاظ سے وقف کا اہل نہیں ہے تو ان کو دیانتداری اور تقویٰ کے ساتھ جماعت کو مطلع کرنا چاہیے۔" خطبه جمعه فرموده ۱۰ فروری ۱۹۸۹ء) والدین سے میری پر زور اپیل ہے کہ خدا اور اس کے رسول کے حضور پیش کرنے والے اس تحفہ کو مزین کر کے اس طرح پیش کریں کہ جس طرح خدا کی محبت کیلئے محبوب ترین چیز پیش کرنے کا حکم ہے۔ایسا