واقفین نو — Page 18
لوک نہ کی جائے۔بلکہ انہیں آسانی بہم پہنچائی جائے اور رہنمائی کی جائے۔مثلاً ہر بچہ کو سیڑھیاں چڑھنے کا بہت شوق ہوتا ہے۔اور سر ماں اس موقع پر خوفزدہ ہو جاتی ہے۔جونہی بچہ رینگنا شروع کرتا ہے وہ سیڑھیاں چڑھنا چاہتا ہے۔بعض دفعہ چوٹ بھی لگ جاتی ہے۔ایسے موقع پر چیخ و پکار اور وحشت کا اظہار نہ کریں بلکہ حوصلہ اترائی کریں۔خود حفاظت کے لئے تیار رہیں۔گرتے پر واویلا کرتا۔پریشانی کا اظہار اس کو پست ہمت بنادے گا۔بے ضرر سر گرمیوں پر خوانخواہ ٹوکنے سے خوف دلانے اور ڈرانے سے بچہ بزدل ہو جائے گا۔ساری عمرکش مکش کا شکار رہے گا۔کوئی بھی نیا قدم اٹھانے اور کوئی کام شروع کرنے سے قبل تذبذب کا شکار ہو جائے گا۔خوف کا احساس اس پر غالب رہے گا۔عنا پیدا کرتا اور میر کا جذبہ پیدا کرنا تقریباً ہم معنی چیزیں ہیں۔بعض مائیں بچوں کاندید اپن دور کرنے کے لئے انہیں سیر کرنا چاہتے ہیں۔لیکن اس سے لانچ اور ہوس پیدا ہوتی ہے۔لالچ اور ہوس سے محفوظ کرنے کے لئے صبر کی تربیت ہی کافی ہے۔موجودہ دور میں بچہ کی ہر خواہش پوری کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔اس کے نتائج بالکل منفی پیدا ہوتے ہیں۔بچہ کی ہر خواہش پوری کرنے کے نتیجہ میں لالچ ، سوس، بے تیسری بعد میں ضد غصہ نفرت سب اسی وجہ سے ہے بچے کی ہر خواہش پوری کرنے کے نتیجہ میں بچہ عملی دنیا میں ناکام انسان بھی ثابت ہو سکتا ہے اور احساس محرومی کا شکار بھی۔کیونکہ حقیقی دنیا میں ایسا نہیں ہوتا کہ جو خواہش پیدا ہو وہ پوری بھی ہو۔بلکہ ہر جگہ رکاوٹ میں نا موافق حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔جدو جہد کے بعد بھی ضروری نہیں کہ نیز ۱۰۰ کامیابی حاصل ہو۔اس لئے بچہ کو تربیت دینی ہوگی کہ اس دنیا میں تمام خواہشات پوری نہیں ہوتیں۔کوئی خواہش پوری ہوتی ہے اور کوئی نہیں ہوتی۔اس لئے بڑی حکمت عملی کی ضرورت ہے کہ بچہ مند بھی کرے اور مثبت انداز میں اس بات کو قبول کرلے کہ کبھی کبھی کوئی چیز نہیں بھی ملتی۔