واقفین نو

by Other Authors

Page 17 of 21

واقفین نو — Page 17

وقت صبر کا اہم جز ہے۔یہ وقت جتنا طویل ہو گا اتنا ہی صبر کا مادہ پیدا ہو گا۔مثلا پھل خریدا گیا ہے۔بچہ فوراً مانگے گا۔اسے سمجھائیں کہ یہ دھوئے جائیں گے پھر کھانے کے بعد کھائے جائیں گے۔اسی طرح باقی مطالبات بھی کبھی جلد پورے کریں کبھی دیر سے اور بعض مطالبات نہ بھی پورے کریں مثلاً چاند کا مطالبہ جو کبھی پورا مومی نہیں سکتا۔دوسرا طریق یہ ہے کچھ مقدار چیز کی بچہ کو دے دی جائے اور باقی کے لئے اسے سمجھائیں کہ اب وہ کل ملے گی یا شام کو ملے گی۔اس انتظار میں صبر کرنا سیکھ جائے کبھی اسے کہا جائے کہ دوسے بہن بھائی اسکول سے واپس آئیں گے تو اس وقت چیز ملے گی۔اس طریق سے اسے صبر کرنے کے ساتھ دوسروں کے ساتھ SHARE (حصہ بانٹنے) کرنے کی عادت بھی پڑے گی۔مل جل کر بانٹ کر کھانے کی تربیت بھی ملے گی۔سیرا نا زیادہ نہ کر وایا جائے کہ بچہ ضد پر آ جائے۔اس موقع پر انفرادی اختلافات " کے نظریہ کو مد نظر رکھا جائے۔کوئی بچہ زیادہ دیر تک صبر کر سکے گا۔کوئی تھوڑی دیر اور کوئی بے صبر بچہ ہند پر آجائے گا۔غصہ برداشت کرنے کی عادت ڈالنے کے لئے بچے کو غصہ کی نوبت ہی نہ آنے دیں۔ضد میں رونا در اصل غصہ کی علامت ہے۔ہند سے محفوظ رکھنے کا ذکر پہلے آچکا ہے۔اس لئے غصہ سے بچانا در حقیقت اس کیفیت کا موقع ہی نہ آنے دیتا ہے اسی طرح دیگر منفی جذبات پر قابو پانے کا ایک طریقہ یہ ہی ہے کہ بچہ اس AGITATED STATE (بھٹ کی ہوئی حالت) سے نا آشنا ہی ہے۔بھڑ کے ہوئے جدیوں کو کنٹرول کر ناشکل ہے۔اس لئے بہتر ہے کہ ان کو مشتعل نہ ہونے دیا جائے منفی جذبوں کے لئے ارتقائی CHAWWALS (راستے) ڈھونڈنے ہوں گے۔بعد میں سیلاب پر بند باندھنا نا ممکن نہیں تو مشکل ضرور ہوگا۔عزم و ہمت پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ بچوں کی بے ضرور سر گر میوں میں روک