انسان کامل — Page 5
کہ اس پر یہ تمام حالات وارد ہوئے ہیں۔اس کے متعلق ہم اسکانی طور پر یہ فتوی لگا سکیں گے کہ اگر کوئی شخص کامل نمونہ بن سکتا ہے تو یہ شخص ہے کیونکہ کا نمونہ وہی بن سکتا ہے جس پر تمام انسانی حالات آئیں اور پھر وہ ب میں قابل تقلید مثال پیش کر سکے۔اس امکانی فتونی کے بعد ہم اس شخص کے حالات پر غور کر کے معلوم کریں گے کہ آیا جب اس پر یہ حالات مختلفہ اور احوال کثیرہ آئے تھے تو وہ ان سب میں کما حقہ اپنے فرائض بجا لاسکا تھا یا نہیں۔اور ہر حالت میں اس نے وہی کچھ کیا تھایا نہیں جو اسوقت کرنا مناسب اور عقلاً درست اور ضروری تھا۔عقلی معیار پر رشیوں کی عدم مطابقت اس معیار کے مطابق پہلے ہم وید کے چار رشیوں کو لیتے ہیں لیکن افسوس کہ سوائے اس کے کہ آریوں کا زبانی دعوی ہے کہ ابتداء عالم میں چار رشی۔اگنی والیو - ادتیہ اور انگرہ نامی آج سے ایک ارب بہتیں کروڑ برس پہلے گذرے ہیں اور کوئی امر بھی وہ ان کے متعلق نہیں کہہ سکتے۔سوائے اس کے کہ وہ بے ماں باپ تھے اور بس۔نہ ان کی تاریخ محفوظ ہے۔نہ ان کا شادی کرنا ، صاحب اولاد ہونا ، حاکم و محکوم ہونا ، دوست دشمن رکھنا۔جنگ کرنا۔فتح و شکست پانا و غیره و غیره۔یعنی ان چالیسں حالات میں سے کسی ایک حالت کا بھی وارد ہونا آریوں کے نزدیک بھی ثابت نہیں۔اور اس امر کے وہ خود مقر میں کہ ان رشیوں کے حالات کا قطعاً کوئی علم نہیں۔اس لئے ہم بڑے ادب سے ان چار رشیوں کو کہیں گے کہ آپ مقابلہ کے امتحان کے کمرہ سے باہر تشریف لے جائیں۔کیوں کہ ہم اس کو اپنے لئے نمونہ بنا سکتے ہیں جس پر ہم انسانوں کے تمام حالات وارد ہوں۔لیکن آپ کے متعلق قطعا معلوم نہیں کہ آپ کون ہیں۔کہاں سے آتے ہیں۔کیسے ہیں۔کن اخلاق کے مالک ہیں۔وغیره وغیره۔عقلی معیار پر بیج کی عدم مطابقت اس کے بعد ہم عیسائیوں سے عرض کرتے ہیں کہ براہ مہربانی اپنے پیشوا اور خداوند کے حالات کی لسٹ پیش کریں مگر افسوس کہ ہم اس لسٹ کو اکثر جگہ سے خالی پاتے ہیں اور جس نمبر کو دیکھتے ہیں۔وہاں ہا تھو صفر لکھا ہوتا ہے یا عدم علم کا نذر کیا ہوتا ہے کیونکہ جب ہم نے اس لسٹ کو دیکھا تو معلوم ہوا کہ مسیح غریب تو تھے مگر امیری کی حالت ان پر نہیں آئی۔اس لئے ایک امیر اپنی زندگی میں اپنی امارت کے لئے مسیح کے حالات کو کس طرح نمونہ بنا سکتا ہے ؟ اسی طرح مسیح رومیوں کے محکوم تو تھے مگر خود کبھی حاکم اور بادشاہ