انسان کامل — Page 6
نہ ہوئے۔اس لئے ایک بادشاہ جو یہ چاہتا ہے کہ میں اپنی بادشاہت میں کسی کامل بادشاہ کو نمونہ بناؤں وہ کس طرح حضرت مسیح کو نمونہ بنا سکتا ہے۔اسی طرح میں نے نہ کسی قوم سے جنگ کی۔نہ فتح ہوئی۔نہ شکست کا موقعہ ملا کہ ایک جنگ جو ایک فاتح یا ایک شکست خوردہ آپ کو نمونہ بنا سکے۔پھر مسیح کنوارے رہے اور بیشک آپ تمام دنیا کے کنواروں کے لئے نمونہ ہیں۔کیونکہ میں باوجود کنورا ہونے کے ساری عمر نہایت عفیف اور پاک دامن رہے۔اس لئے کنوارے آپ کو نمونہ پکڑ سکتے ہیں۔اور کنوارہ رہ کر آپ کی پاکدامنی کانمونہ اختیار کر سکتے ہیں۔مگر افسوس کہ میسج نے شادی نہیں کی۔اس لئے شادی شدہ لوگوں کیلئے آپ نمونہ نہیں بن سکتے۔پھر چونکہ مسیح نے شادی نہیں کی۔اس لئے آپ صاحب اولاد بھی نہیں تھے۔اس لئے صاحب اولاد لوگ اپنی اولاد کی تربیت میں آپکو نمونہ نہیں بنا سکتے۔پھر جب آپ صاحب اولاد نہ تھے تو آپ کی اولاد فوت بھی نہیں ہوئی اس لئے کس طرح وہ شخص جس کی اولاد فوت ہو جس کا جگر کا ٹکڑا اس سے جدا کیا جائے ، موت جس کے لعل کو اس سے چھین کرنے جائے۔میج کو صبر جمیل کا نمونہ بنا سکتا ہے ؟ دیکھو ایک شخص بوڑھا ہے اس کی اولاد فوت ہو رہی ہے۔لڑکیاں اور لڑکے پے در پے مرتے جاتے ہیں۔اس کی آنکھوں کے سامنے دنیا اندھیر ہو رہی ہے۔وہ طبعاً چاہتا ہے کہ مجھے اس وقت کوئی رہبر ملے جو مجھے بتائے کہ اس پل صراط سے کس طرح گزرنا چاہیے۔وہ آواز دے کر کہتا ہے خداوند می میرا ہاتھ پکڑیئے اور مجھے فرمائیے کہ اب میں کیا کروں۔میری یہ تلخ زندگی کی طرح بسر ہو۔مجھے کیا طریق اختیار کرنا چاہیے۔مگر افسوس کہ میسج اس کا ہاتھ نہیں پکڑتے۔مگر دور ہی سے اتنا فرما دیتے ہیں۔کہ بھائی صبر کرو۔وہ کہتا ہے کہ کس طرح صبر کروں ؟ موت نے تو ہاتھ ڈال کر میرے جگر کے ٹکڑے تگڑے کر دیئے ہیں۔میرے نور چشم میری آنکھوں کے سامنے پیوند زمین ہو گئے ہیں۔چلتے پھرتے جوان بیٹے بیٹیاں ہوگے ملک الموت مجھ سے چھین کرلے گیا ہے۔میرا روشن کر اندھیرا ہوگیا ہے۔مجھے کسی وقت چین نہیں۔کیا تجھے اے خداوند ایسی مصیبت آئی کہ میں تیرے حالات پر غور کر کے تسلی پاسکوں ؟ تو مسیح صاف کہتے ہیں کہ بھائی بیشک مجھے یہ مصیبت دنیا میں نہیں پہنچی۔مجھے معلوم ہی نہیں کہ اولاد کیا ہوتی ہے اور اس کی محبت کیا ہوتی ہے ، اور پھر جدائی کا صدمہ کیا ہوتا ہے ؟ میں تو اس مصیبت سے نا آشنا ہوں۔وہ مصیبت زدہ کہے گا کہ حضور پھر میں آپ کو دیکھ کر کس طرح تستی پاسکتا ہوں ؟ اسی طرح مسیح نے کوئی کاروبار نہیں کیا نہ تجارت کی نہ ملازمت کی نہ بیع و شراء اور زمین وغیرہ معاملات میں پڑے۔تو کس طرح آپ تاجروں ملازموں، کاروباری لوگوں یا خرید و فروخت کرنے والوں کے لئے نمونہ بن سکتے ہیں ؟ پس مسیح دنیا کے کروڑوں تاجروں ، لاکھوں کاروباری لوگوں ، لاکھوں ملازموں اور اربوں روزانہ خرید و فروخت