انسان کامل

by Other Authors

Page 19 of 30

انسان کامل — Page 19

19 آنحضرت عورتوں کیلئے کامل نمونہ آپ فرمایا کرتے تھے۔خیر کم خَيْرُكُم لِأَهْلِهِ - یعنی سب سے اچھا وہ شخص ہے جو بیوی کے حق میں سب سے اچھا ہو۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ مجھے حضور کی کسی بیوی پر کبھی اتنا رشک نہیں آیا۔جتنا حضرت خدیجہ پر۔حالانکہ میری شادی سے تین سال قبل وہ فوت ہو چکی تھیں۔اور میں نے ان کو کبھی دیکھا بھی نہ تھا۔صرف اس لئے کہ حضور ان کی وفات کے بعد اکثر ان کی خوبیوں کا ذکر کرتے رہتے تھے۔حالانکہ عموماً مرد اپنی مرحومہ بیوی کی خوبیوں کا ذکر نئی بیویوں سے نہیں کرتے۔پھر حضور اگر ایک بکری ذبح کرتے تو اپنی مرحومہ بیوی کی سہیلیوں تک کو حصہ بھیجتے۔حضرت عائشہ یہ کہتی ہیں کہ حضور گھریں تشریف لاتے تو تو عری کی وجہ سے سہیلیوں کے ساتھ گڑیاں کھیلتی ہوئی۔حضور کو دیکھ کر میری سہیلی تڑکیاں ادھرادھر کونوں میں چھپ جاتیں آپ وہاں سے ان کو بلاتے اور کہتے کہ عائشہ کے ساتھ کھیلو۔سفروں میں بھی حضور بیولوں کو لے جاتے اور ہر وقت ان کی دلجوئی فرماتے۔لکھا ہے کہ گھر کے کام کاج میں بیویوں کا ہاتھ بٹاتے۔یہود اور سہود میں حائضہ بیوی باورچی خانے میں نہیں جا سکتی۔خاوند کے ساتھ لیٹ نہیں سکتی۔بلکہ الگ رہتی ہے۔آپ نے یہ ناقدری اور ذلت دور کی۔حضور ایسی حالت میں ساتھ سوتے خود میں سر رکھ کر قرآن پڑھتے۔ساتھ کھانا کھاتے۔ایک برتن سے پانی پیتے۔1 طرح اسلام سے پہلے بیویاں خاوند کے مال کی وارث نہ ہوتی تھیں۔حضور نے عورتوں کو پہلے نہ نے بھی اس حق سے مشرف فرمایا جسے دیکھ کر آج تحریک ہو رہی ہے کہ ہندو ہوہ بھی خاوند کی وارث ہوا کرے۔وفات کے وقت فرمایا ان اهم وعندي امرن یعنی مجھے اپنے بعد سب سے زیادہ تمہاری فکر ہے کہ تمہاری خدمت کون کرے گا " پھر فرمایا وَلَنْ يُصْبِرُ عَلَيْكُنَّ إِلا العنقون یعنی تمہاری خدمت میر ہے بعد میرے بچے تا بعدار اور پکتے مومن ضرور کریں گے۔غرض آپ نے ایک شادی شدہ شخص کے لئے وہ رافت اور حسن سلوک کا نمونہ قائم کیا ہے کہ جس کی نظیر نہیں۔آپ کو تو دلجوئی یہاں تک منظور تھی۔کہ آپ نے ایک دفعہ شہد کا شربت جو آپ کو بہت مرغوب تھا پیا۔